سرحد یونیورسٹی میں کیا ہوا؟ بیرسٹر گوہر نے واقعے پر دوٹوک مؤقف دے دیا

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے اسلام آباد کی سرحد یونیورسٹی میں سرکاری اہلکار اور طلبہ کے درمیان ہاتھا پائی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وردی میں موجود شخص پر حملہ اور اس کی وردی پر ہاتھ ڈالنا انتہائی افسوسناک ہے، کیونکہ یونیفارم پہننے والے شخص کی بھی عزتِ نفس اور خاندان ہوتا ہے۔راولپنڈی کے داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سرحد یونیورسٹی واقعے کی ویڈیو دیکھ کر انہیں دلی افسوس ہوا۔ ان کے مطابق کسی بھی وردی والے شخص پر حملہ قابل مذمت ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز اسلام آباد کی نجی سرحد یونیورسٹی میں طلبہ اور ایک سرکاری اہلکار کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق طلبہ یونیورسٹی کے شعبہ ہیومن ریسورس کی ڈائریکٹر کے رویے کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ اسی دوران ایک افسر موقع پر پہنچا اور بعض طلبہ کی جانب سے آوازیں کسنے کے بعد ان کے ساتھ جھگڑا ہوگیا۔رپورٹس کے مطابق انتظامیہ کے افراد موقع پر پہنچے تو طلبہ اور اہلکار کے درمیان ہاتھا پائی جاری تھی، جس کے بعد اہلکار نے ہوائی فائرنگ کی اور وہاں سے چلا گیا۔ واقعے کی فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج کے معاملے پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے کا منصوبہ آخری لمحے میں تبدیل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو معاملات کافی آگے بڑھ چکے ہوتے۔انہوں نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کا شفا اسپتال میں علاج ہوجاتا تو بہتر ہوتا، تاہم وہ مایوس نہیں اور دوبارہ کوشش کریں گے۔ ان کے مطابق رابطے ختم نہیں کیے جاتے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اب تک ہونے والی تمام بات چیت بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے تھی اور اعظم نذیر تارڑ بھی رابطوں اور مذاکرات کی تصدیق کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کو سیاسی معاملہ نہیں بنانا چاہیے اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد ہونا چاہیے تھا۔چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق حکومت نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ شفا اسپتال منتقلی کے حوالے سے سکیورٹی خدشات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے کور اور سیاسی کمیٹی کے اعلامیے کے ذریعے کارکنوں کو واضح کردیا تھا کہ کسی کو شفا اسپتال نہیں جانا۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال کے بجائے پمز منتقل کیا گیا، تاہم ان کے بقول وہاں بھی وہ علاج نہیں کیا گیا جو ضروری تھا۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر آج بھی عمل ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق ان کی درخواست پر نمبر لگ چکا ہے اور جلد سماعت کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کے لیے دائر کی گئی ہے اور یہ سول توہین عدالت کا معاملہ ہے۔بانی پی ٹی آئی سے اپنی ملاقات سے متعلق گردش کرنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج کو جعلی قرار دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ گزشتہ منگل کی ملاقات کے بعد نورین نیازی خوش تھیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت اور سکیورٹی دونوں ان کے لیے اہم ہیں۔موجودہ سیاسی صورتحال پر چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق متحدہ اپوزیشن قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے گی، عوامی مسائل اجاگر کرنے کے ساتھ حکومت کا احتساب بھی کیا جائے گا۔بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ عدلیہ، الیکشن کمیشن اور صوبائی معاملات میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے