پمز واقعے پر سیاست بند کریں، اسپتال چلانا وزارت صحت کا کام نہیں: مصطفیٰ کمال
اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز سانحے کے بعد وزیراعظم کو استعفیٰ بھیجے جانے سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپتال چلانا وزارت صحت کی ذمہ داری نہیں بلکہ انتظامیہ کا کام ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اسلام آباد میں چار سے پانچ بڑے اسپتال ہیں جہاں شہریوں کا رش رہتا ہے، تاہم اسپتالوں کا انتظام چلانا وزارت صحت کی ذمہ داری نہیں۔وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ پمز واقعے کے بعد سیاسی تنقید کی جا رہی ہے۔ انہوں نے تنقید کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کرنے والے ڈرامے بازی بند کریں اور یہ بتایا جائے کہ کیا گزشتہ 35، 40 سال سے ان کی حکومت رہی ہے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انہیں کسی کی سیاسی وابستگی سے فرق نہیں پڑتا، تاہم بعض ناقدین کی تنقید پر انہیں حیرت ہوتی ہے۔پمز اسپتال سے متعلق وزیر صحت نے بتایا کہ ادارے میں 275 سے زائد آسامیاں خالی ہیں، جبکہ اسپتال میں نیا ٹراما سینٹر قائم کیا گیا ہے جس کے لیے نئی بھرتیاں کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ آتشزدگی کے واقعے کے بعد پمز اسپتال سے تقریباً 80 افراد کو ریسکیو کیا گیا، جبکہ واقعے کے بعد بھی اسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔دورانِ پروگرام میزبان نے مصطفیٰ کمال سے پمز سانحے کے بعد وزیراعظم کو استعفیٰ بھیجنے سے متعلق سوال کیا، تاہم وفاقی وزیر صحت نے اس سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔ادھر پمز کے بعد اسلام آباد کے ایک اور بڑے سرکاری اسپتال پولی کلینک میں بھی فائر سیفٹی انتظامات مکمل نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جہاں سی ڈی اے کے فائر آڈٹ میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔