جماعت اسلامی کا 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان، اسلام آباد مارچ کی دھمکی
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہڑتال سے قبل بھی اسلام آباد کی کال دی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو اسلام آباد آنے کی کال دی گئی تو حکومت کے لیے صورتحال سنبھالنا مشکل ہوگا۔حافظ نعیم الرحمن نے یہ اعلان لاہور مال روڈ پر جماعت اسلامی کے دھرنے کے 12ویں روز مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک عوام کے بنیادی حقوق، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سمیت دیگر مطالبات کے لیے ہے۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال رکھا ہے، جبکہ بنیادی حقوق کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق دھرنے کی تحریک ملک بھر میں پھیل چکی ہے اور 3 ستمبر کو پورے ملک میں پرامن ہڑتال ہوگی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک کی بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے، لیکن انہیں تعلیم اور صحت سمیت بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں۔ ان کے بقول میٹرک کے بعد بہت سے نوجوان انٹرمیڈیٹ اور انٹرمیڈیٹ کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی چہروں کے بجائے نظام کی تبدیلی چاہتی ہے اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔پمز ہسپتال کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعظم اور وزیر صحت سے جواب طلب کیا اور کہا کہ ہسپتال میں حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔ انہوں نے پمز میں بچوں کی اموات کو حکومتی نااہلی اور کرپشن سے جوڑتے ہوئے اس معاملے پر جواب دہی کا مطالبہ کیا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ان کی جماعت پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے احتجاج کررہی ہے اور ہڑتال مکمل طور پر پرامن ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان سمیت پورا ملک ہڑتال میں شریک ہوگا۔حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کے مطالبات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم لیوی میں اضافہ ہر چیز کی قیمت بڑھا دیتا ہے، اس لیے لیوی کم کی جائے۔ انہوں نے آئی پی پیز کے معاملے پر بھی اقدامات، کمرشل، صنعتی اور گھریلو بجلی کے بلوں کو الگ کرنے اور بجلی کے نرخ کم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے ملک بھر میں روٹی کی قیمت 10 روپے مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کو اپنی ذات یا پارٹی کے لیے کچھ نہیں چاہیےحافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ ہڑتال کے بعد اسلام آباد کے نوجوانوں کو بھی کال دی جائے گی، جبکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ہڑتال سے قبل ہی اسلام آباد کی کال دے دی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو اسلام آباد آنے کی اپیل کی گئی تو حکومت کے لیے انہیں سنبھالنا مشکل ہوگا۔انہوں نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ملک کی ترقی کے لیے استعمال کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی استعمال نہ ہونے کے باوجود آئی پی پیز کو کروڑوں روپے ادا کیے جارہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے تاجر برادری سے بھی جماعت اسلامی کا ساتھ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان میں بجلی اور پٹرولیم لیوی کی قیمتیں کم کرنے کی آواز اٹھ رہی ہے۔