قومی اسمبلی میں اچانک کیا ہوا؟ ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ
قومی اسمبلی کے اجلاس میں عمران خان کی منتقلی، میڈیکل کالجز کی فیسوں، گستاخی سے متعلق بل اور صوبوں کے معاملے پر ارکان نے اظہار خیال کیا، جبکہ کارروائی کے دوران ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو انہوں نے بتایا کہ آج پرائیویٹ ممبر ڈے ہے، اس لیے کسی قسم کی قانون سازی نہیں ہوگی اور اجلاس میں صرف نقطہ اعتراض پر بات کی جائے گی۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اقبال آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود عمران خان کو شفا اسپتال کے بجائے پمز منتقل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کیا جائے اور پارلیمنٹ کو سپریم بنایا جائے۔اسلام آباد کے میڈیکل کالجز اور نجی اسپتالوں میں فیسوں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر پارلیمانی سیکرٹری نیلسن عظیم نے بتایا کہ وزیراعظم نے اس معاملے پر ایک کمیٹی قائم کی تھی، جس نے ابتدائی طور پر فیس 18 لاکھ روپے مقرر کی۔ان کے مطابق بعض میڈیکل کالجز نے فیس 25 لاکھ روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ مجموعی طور پر 61 میڈیکل کالجز نے اپنے دستاویزات جمع کرائے، جن میں سے 35 کالجز کی اپیلیں کمیٹی نے درست قرار دیں اور ان کے لیے فیس 21 لاکھ روپے مقرر کی گئی۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان میں ہر سال 22 ہزار ڈاکٹرز تیار ہوتے ہیں، جن میں 65 فیصد حصہ نجی میڈیکل کالجز کا ہے۔ ان کے مطابق 96 ہزار طلبہ نے ایم ڈی کیٹ کا امتحان پاس کیا، تاہم صرف 22 ہزار طلبہ کو داخلہ دیا جاسکا۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کے ہزاروں طلبہ بیرون ملک جاتے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہاں تعلیمی معیار بہتر نہیں، جبکہ پاکستانی ڈاکٹرز بیرون ملک جاکر ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ وزیراعظم نے میڈیکل کالجز کی فیسوں کے معاملے پر کمیٹی قائم کی ہے اور اس وقت کوئی بھی کالج اپنی مرضی سے فیس مقرر نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق 188 میڈیکل کالجز میں سے صرف 38 کالجز کو 18 لاکھ روپے سے زائد فیس وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔اجلاس میں علی محمد خان نے گستاخی سے متعلق بل پر رولنگ دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2023 میں گستاخی سے متعلق ایک بل منظور ہوا، جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کیا، تاہم صدر نے نہ اسے منظور کیا اور نہ واپس بھیجا۔علی محمد خان نے ڈپٹی اسپیکر سے اس معاملے پر رولنگ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مسئلہ حل ہوجائے گا۔ ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے کہا کہ اس وقت عارف علوی صدر تھے، تاہم معاملہ چیک کرلیا جائے گا۔دوران اجلاس صوبوں کے معاملے پر آغا رفیع اللہ اور حفیظ الدین کے درمیان بھی تلخ کلامی ہوگئی۔ آغا رفیع اللہ نے کہا کہ حکومت کے وزرا صوبوں کا شوشہ چھوڑتے ہیں۔حفیظ الدین کی جانب سے آغا رفیع اللہ کی گفتگو میں مداخلت پر دونوں ارکان کے درمیان گرما گرمی ہوئی۔ آغا رفیع اللہ نے کہا کہ انہیں کون ٹھیک کرے گا اور کراچی کا بھی بیڑا غرق کردیا گیا ہے۔حفیظ الدین نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمیز سے بات کریں، جس پر آغا رفیع اللہ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گفتگو میں مداخلت کیوں کی جارہی ہے۔صورت حال کو دیکھتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر نے آغا رفیع اللہ کو بیٹھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بعد میں انہیں بات کرنے کا موقع دیا جائے گا۔بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔