ایران سے تجارت پر پابندیوں کی دھمکی، چین کا امریکا کو سخت پیغام
چین نے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والے ممالک پر امریکی پابندیوں کے عندیے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دباؤ اور پابندیوں کی حکمت عملی مسائل کے حل میں مددگار نہیں بلکہ کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ فریقین کو سمجھ داری اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو تنازع کو مزید بڑھائیں یا عالمی اقتصادی ترقی اور مالیاتی استحکام کو نقصان پہنچائیں۔لن جیان نے امریکا کا نام لیے بغیر کہا کہ پابندیوں اور دباؤ کے ذریعے مسائل حل نہیں کیے جاسکتے، جبکہ تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔چینی ترجمان نے کہا کہ چین خطے کی کشیدہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضرورت پڑنے پر ہر ضروری اقدام کرے گا۔چین کا یہ ردعمل امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کو انتہائی سخت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھنے والے ممالک کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔امریکی وزیر خزانہ نے بالخصوص چین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران کو اقتصادی طور پر تنہا کرنے کے لیے امریکا کا ساتھ دے۔چین ایرانی تیل کا اہم ترین خریدار ہے۔ خبر کے مطابق امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری ناکہ بندی کے باوجود رواں ماہ اگست میں چین کو ایرانی تیل کی ترسیل تقریباً 5 لاکھ 34 ہزار بیرل یومیہ رہی۔جولائی میں چین نے ایران سے روزانہ 8 لاکھ 23 ہزار بیرل تیل درآمد کیا تھا، تاہم اگست میں ناکہ بندی میں سختی اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث اس میں کمی آئی ہے۔اس کمی کے باوجود چین ایران سے تیل خریدنے والا اہم ترین ملک ہے اور ایرانی تیل کی آمدنی ایران کے لیے بڑے مالی سہارا کا ذریعہ ہے۔ روس بھی ایران سے تیل خریدنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔