قطر اور ایران میں آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے عارضی بحری راہداری پر بات چیت


تہران: قطری وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی ایران کے سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے، جہاں انہوں نے خطے کی تازہ صورتحال، کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے امکانات پر ایرانی حکام سے بات چیت کی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق قطری وزیراعظم نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور علاقائی سلامتی و استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔قطری وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مشترکہ منصوبے پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس کے علاوہ محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے کے لیے آبنائے میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے کی تجویز زیرِ بحث آئی۔مجوزہ منصوبے کا مقصد مکمل اور معمول کی تجارتی بحری آمدورفت بحال ہونے تک محدود پیمانے پر محفوظ راستہ فراہم کرنا اور سمندری نقل و حرکت سے وابستہ خطرات کم کرنا ہے۔قطر اور ایران کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی شدید متاثر ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر تیل اور ایل این جی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی سپلائی گزرتی ہے۔ایران اور عمان بھی گزشتہ دنوں آبنائے ہرمز کے لیے عارضی بحری راستے اور بارودی سرنگیں صاف کرنے کے منصوبے پر بات چیت کرچکے ہیں۔ تاہم ان مذاکرات کا حتمی نتیجہ اور آبنائے کو معمول کی تجارتی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنے کی شرائط تاحال واضح نہیں ہیں۔قطری وزیراعظم کا دورہ صرف بحری آمدورفت کی بحالی تک محدود نہیں، بلکہ اسے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر سفارتی کوششوں کا حصہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ قطر خطے میں ثالثی کے لیے سرگرم ہے اور فریقین کے درمیان دوبارہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کرچکے ہیں کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں موجود تمام بارودی سرنگیں تلاش کرکے صاف یا ناکارہ بنا دی ہیں۔ امریکی حکام نے بھی مرکزی بحری راستے میں بارودی سرنگیں صاف کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔تاہم ایران اور عمان کی جانب سے الگ سے بارودی سرنگیں صاف کرنے اور عارضی بحری راستہ قائم کرنے کے لیے مذاکرات جاری رہنا ظاہر کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی اور تجارتی آمدورفت کا معاملہ اب بھی سفارتی سطح پر اہم مسئلہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے