نیپال اور تبت کے سرحد ی علاقے میں سیلاب نے تباہی مچا دی 31 ہلاک 350 لاپتا
نیپال اور تبت کی سرحد پر اچانک آنے والے شدید سیلاب اور مٹی کے تودے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں سیاح لاپتا ہوگئے۔نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق لاپتا افراد میں 100 سے زائد بھارتی اور 12 برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔تبت سے سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں پانی اور کیچڑ کا ایک بڑا ریلا سرحدی گزرگاہ کی عمارتوں سے ٹکراتا دکھائی دیتا ہے۔ نیپال سے موصول ہونے والی تصاویر میں بھی سیلابی ریلے کے اچانک آنے کے بعد لوگوں کو جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی جانب بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے۔نیپال کے وزیر خارجہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تباہ کن سیلاب کی ممکنہ وجہ زلزلہ اور اس کے نتیجے میں برفانی تودہ گرنے کا واقعہ ہوسکتا ہے، تاہم قدرتی آفت کی حتمی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔دوسری جانب تبت میں صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر چینی صدر شی جن پنگ نے واقعے کا ذاتی طور پر نوٹس لیتے ہوئے امدادی کارروائیوں سے متعلق ہدایات جاری کی ہیں۔ چینی حکام نے ریسکیو سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔نیپال میں اس قدرتی آفت کو 2015 کے تباہ کن زلزلے کے بعد ملک کی سب سے بڑی تباہی قرار دیا جا رہا ہے۔ 2015 کے زلزلے میں تقریباً 9 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا چیلنج دشوار گزار پہاڑی علاقوں، خراب موسم اور سیلاب کے باعث متاثرہ مقامات تک رسائی ہے۔ریسکیو ٹیمیں لاپتا سیاحوں سمیت دیگر متاثرین کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔