صدرِ ریاست کی دوڑ: راجہ فاروق حیدر خان کی سیاسی سرگرمیاں تیز، حمایت کے لیے رابطے بڑھا دیے
مظفرآباد: سابق وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے صدر آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے منصب کے حصول کے لیے سیاسی رابطوں اور سرگرمیوں میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ اگرچہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے تاحال صدارتی امیدوار کے نام پر نہ تو باضابطہ مشاورت شروع ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی حتمی فیصلہ سامنے آیا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ راجہ فاروق حیدر خان نے ذاتی سطح پر اپنی حمایت کے لیے سیاسی رابطے بڑھا دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق راجہ فاروق حیدر خان آزاد کشمیر میں اپنے قریبی سیاسی ساتھیوں، ارکان اسمبلی اور دیگر حامیوں کو متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ وفاقی اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت سے اپنے دیرینہ سیاسی تعلقات کو بھی بروئے کار لا رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں کا بنیادی مقصد صدارتی امیدوار کے باضابطہ فیصلے سے قبل اپنی حمایت کا دائرہ وسیع کرنا اور مرکزی قیادت کے سامنے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بنانا قرار دیا جا رہا ہے۔راجہ فاروق حیدر خان کے قریبی سیاسی حلقے بھی ان کے حق میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی جانب سے سابق وزیراعظم کے طویل سیاسی تجربے، دو مرتبہ آزاد کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے اور ریاستی امور پر گہری گرفت کو صدرِ ریاست کے منصب کے لیے ان کی اہم سیاسی خوبیوں کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) کی قیادت بالآخر راجہ فاروق حیدر خان کو صدرِ ریاست کے لیے نامزد کرتی ہے تو ان کی اسمبلی رکنیت چھوڑنے کے نتیجے میں خالی ہونے والی نشست بھی سیاسی طور پر اہم ہو جائے گی۔ اس نشست پر ان کے صاحبزادے کو ضمنی انتخاب میں امیدوار بنائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث صدارتی منصب کے ساتھ ساتھ انتخابی حلقے میں سیاسی جانشینی کا معاملہ بھی زیرِ بحث آ گیا ہے۔تاہم سیاسی صورتحال کے اس مرحلے پر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے صدرِ ریاست کے امیدوار کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی راجہ فاروق حیدر خان کے نام پر جماعتی سطح پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اس لیے صدارتی امیدوار کے حوالے سے سامنے آنے والی تمام باتیں فی الحال سیاسی رابطوں، قیاس آرائیوں اور ذرائع کی اطلاعات تک محدود ہیں۔آزاد کشمیر کی سیاست میں صدرِ ریاست کے منصب کے لیے ممکنہ امیدواروں کے حوالے سے سرگرمیاں آنے والے دنوں میں مزید اہمیت اختیار کر سکتی ہیں۔ اب اصل توجہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کے فیصلے اور راجہ فاروق حیدر خان کی جانب سے جاری سیاسی رابطہ مہم کے نتائج پر مرکوز ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اپنے طویل سیاسی تجربے، مرکزی قیادت سے روابط اور آزاد کشمیر میں موجود سیاسی حمایت کو بروئے کار لاتے ہوئے راجہ فاروق حیدر خان صدرِ ریاست کے منصب کی دوڑ میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔