راولاکوٹ، بلوچ کی صورتحال پر تشویش، حکومت فوری مظاہرین سے مذاکرات کرے: سردار عبد القیوم نیازی
اسلام آباد۔ صدر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر و سابق وزیراعظم سردار عبد القیوم نیازی نے راولاکوٹ اور بلوچ کی تازہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں اضلاع کو نظر انداز کر کے حکومت کا قیام انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت امر ہے۔ ریاست کے کسی بھی حصے کو اس کے عوام کے مینڈیٹ اور بنیادی مسائل سے محروم رکھ کر قائم ہونے والی حکومت دیرپا استحکام نہیں لا سکتی۔حالیہ انتخابات تاریخ کے بدترین الیکشن ہیں ، آزاد کشمیر کے موجودہ حالات کسی صورت ساز گار نہیں تھے ، بوگس ووٹوں کی بھرمار اور چار سے زائد مراحل میں انتخابی عمل کا انعقاد انتخابی عمل کی شفافیت، غیرجانبداری اور ساکھ پر کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ نئی حکومت فوری طور پر مظاہرین سے مذاکرات کا آغاز کرے، ان کے جائز مطالبات سنے اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جائے۔ عوامی مسائل کا حل طاقت، تشدد یا ریاستی جبر نہیں بلکہ مذاکرات اور سیاسی تدبر سے ممکن ہے۔ کسی بھی صورت طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس سے حالات مزید خراب ہوں گے اور ریاست میں انتشار بڑھے گا۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے موجودہ بحران کی بنیادی ذمہ داری مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے سیاسی ہٹ دھرمی، غلط فیصلوں اور عوامی جذبات کو نظر انداز کر کے ریاست کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا۔ ان جماعتوں کی پالیسیوں کے باعث نہ صرف ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھے بلکہ مسئلہ کشمیر کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔صدر پی ٹی آئی آزاد کشمیر نے کہا کہ پاکستان اس وقت سیاسی، معاشی اور آئینی سمیت متعدد بحرانوں کا شکار ہے۔ ملک کو ان تمام مسائل سے نکالنے کے لیے ایسے مقبول اور باصلاحیت لیڈر کی ضرورت ہے جسے پاکستان کے تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں عوامی حمایت حاصل ہو، اور وہ لیڈر عمران خان ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے، سیاسی انتقامی کارروائیوں کا خاتمہ کیا جائے اور ملک میں صاف، شفاف اور آزادانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنا کر اقتدار عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کے حوالے کیا جائے۔ عوام کے مینڈیٹ کا احترام ہی پاکستان اور آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام، جمہوریت اور ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے۔