امریکی فضائیہ کا طیارہ ماسکو پہنچ گیا، اچانک آمد نے کئی سوالات کھڑے کردیئے
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے شدید تناؤ اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکی فضائیہ کا C-17 گلوب ماسٹر طیارہ اچانک ماسکو پہنچ گیا، تاہم طیارے کی آمد اور اس کے ممکنہ مشن کے بارے میں امریکی اور روسی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار24 کے مطابق امریکی فضائیہ کا C-17 گلوب ماسٹر طیارہ منگل کی صبح تقریباً 7 بجے جی ایم ٹی پر لٹویا کے دارالحکومت ریگا سے ماسکو پہنچا۔ طیارے پر امریکی رجسٹرڈ ٹیل نمبر بھی موجود تھا۔رپورٹ کے مطابق یہ طیارہ 23 اگست کو واشنگٹن کے قریب واقع امریکی فضائی اڈے کیمپ اسپرنگز پہنچا تھا، جس کے بعد اتوار کی سہ پہر میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز سے ماسکو کے لیے روانہ ہوا۔جوائنٹ بیس اینڈریوز امریکی صدر اور اعلیٰ حکام کے سرکاری فضائی سفر کے لیے اہم فوجی اڈہ سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ماسکو جانے والے طیارے میں کون سی شخصیت یا افراد سوار تھے۔فلائٹ ریڈار24 کے مطابق یورپ سے براہ راست روس جانے والی آخری امریکی رجسٹرڈ پرواز جنوری میں ہوئی تھی۔ اس وقت یوکرین جنگ کے حوالے سے امن مذاکرات کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر روس پہنچے تھے۔دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں امریکی طیارے کی آمد سے متعلق کوئی معلومات نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے کسی بھی امریکی حکام کے ساتھ ملاقات بھی طے نہیں تھی۔C-17 گلوب ماسٹر ایک بھاری فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ ہے، جسے فوجیوں اور فوجی سازوسامان کو طویل فاصلے تک منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ماسکو میں اس کی اچانک آمد نے طیارے کے ممکنہ مقصد کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔برطانوی اخبار دی آئی پیپر کے مطابق یہ پرواز ممکنہ طور پر کسی سفارتی سرگرمی یا قیدیوں کے تبادلے سے متعلق ہوسکتی ہے۔ یہ قیاس ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اگست میں سابق امریکی میرین رابرٹ گلمن کی رہائی اور اس سے قبل روس اور امریکہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے ہوچکے ہیں۔روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات میں تاحال نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی اور بات چیت تعطل کا شکار ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں امریکہ اور روس کے درمیان کسی غیر اعلانیہ سفارتی رابطے کے امکان کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا جا سکتا۔فی الحال امریکی حکام کی جانب سے C-17 طیارے کی ماسکو آمد کے مقصد پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔