دانش یونیورسٹی خطے میں ٹیکنالوجی کا مرکزِ امتیاز بنے گی شہباز شریف
اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امید ظاہر کی ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں زیر تعمیر دانش یونیورسٹی جدید تعلیمی، تحقیقی اور فنی سہولیات کی بدولت خطے میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں مرکزِ امتیازکے طور پر ابھرے گی۔ یونیورسٹی کو آئندہ سال ستمبر سے فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔وزیراعظم نے دانش یونیورسٹی کے قیام سے متعلق اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ مستحق اور باصلاحیت نوجوانوں کو معیاری، جدید اور میرٹ پر مبنی تعلیم کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں باصلاحیت نوجوانوں کو عالمی معیار کی تعلیم فراہم کی جائے گی، جبکہ داخلوں کے لیے ملک بھر میں میرٹ کو بنیادی اصول بنایا جائے گا۔اجلاس کو منصوبے پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کے انتخاب کا عمل جاری ہے اور اب تک 185 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔شرکا کو بتایا گیا کہ دانش یونیورسٹی کے ورچوئل اسکول کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے، جس میں ایف ایس سی اور اے لیولز کے دوسرے سال کے طلبہ کو شامل کیا جائے گا۔ اہل طلبہ کے لیے پانچ ماہ کی 100 فیصد مفت کلاسزکا اہتمام ہوگا، جبکہ داخلہ ٹیسٹ24 اکتوبر 2026 کو ملک کے 40 سے زائد شہروں میں منعقد کیا جائے گا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی کیمپس کی عمارت آئندہ سال مکمل کر لی جائے گی، جبکہ **پریپریٹری برج پروگرام 10 اگست سے 14 ستمبر 2027 تک جاری رہے گا۔ یونیورسٹی کا باقاعدہ تعلیمی سیشن 20 ستمبر 2027 سے شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔دانش یونیورسٹی میں ابتدائی طور پر بائیو انجینئرنگ، الیکٹریکل انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی علوم کے شعبہ جات متعارف کرائے جائیں گے۔اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، خالد مقبول صدیقی اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، رکن قومی اسمبلی اسامہ سرور، دانش یونیورسٹی بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین عارف سعید اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔