ایران پر امریکی پابندیاں فوجی شکست کا اعتراف ہیں ،پاسداران انقلاب کا دعویٰ

ایران کے پاسداران انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیوں کے اعلان کو فوجی محاذ پر امریکا کی شکست کا اعتراف قرار دیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے اقتصادی جنگ اور ایران کے خلاف سخت ترین اقتصادی مہم کا اعلان دراصل دشمن کی فوجی میدان میں ’’ذلت آمیز شکست‘‘ کا بالواسطہ اعتراف ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر امریکا فوجی محاذ پر کامیاب ہوتا تو اسے اقتصادی جنگ کا سہارا لینے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ کوئی نئی بات نہیں، کیونکہ دشمن گزشتہ 47 برس سے اقتصادی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور معیشت کے بڑے شعبوں پر پابندیاں عائد کرچکا ہے۔بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ ایران پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ دشمن کی جانب سے کسی بھی جارحانہ اقدام کی صورت میں مختلف منصوبے موجود ہیں۔ ان کے مطابق اقتصادی اقدامات اور اقتصادی جنگ بھی دشمن کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات میں شامل ہیں۔پاسداران انقلاب کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اقتصادی جنگ کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے ایران کے پاس منصوبے موجود ہیں اور تہران دیگر ممالک کے ساتھ باآسانی اقتصادی تعلقات قائم کرسکتا ہے۔ انہوں نے اقتصادی صورتحال پر کسی تشویش کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے باوجود ایران دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کوششوں کے نتائج مستقبل قریب میں سامنے آجائیں گے۔بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے مزید دعویٰ کیا کہ ایرانی مسلح افواج نے جون 2025 کی 40 روزہ جنگ اور فروری کے آخر میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران دشمن کو شدید نقصان پہنچایا۔ان کے مطابق 40 روزہ مسلط کردہ جنگ شروع ہونے سے قبل ایران نے خلیج فارس میں دشمن کے کم از کم 30 سے 40 جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جبکہ دشمن اب خلیج فارس سے 400 کلومیٹر پیچھے ہٹ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی وسائل تعینات کیے تھے، تاہم بالآخر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے