بی جے پی نے Gen-Z ووٹرز کیلئے میمز، کارٹونز اور ریلز کا سہارا لے لیا

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زیڈ تک سیاسی رسائی بڑھانے کیلئے سوشل میڈیا پر روایتی سیاسی انداز سے ہٹ کر میمز، کارٹون کرداروں، فلمی مناظر اور نوجوانوں میں مقبول زبان کا استعمال تیز کردیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بی جے پی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر حالیہ دنوں میں اسپائیڈر مین، موٹو پتلو، یونانی جنگجوؤں اور ڈریک سمیت مختلف مقبول کرداروں کی تصاویر اور ویڈیوز کو سیاسی پیغامات کے ساتھ پیش کیا گیا۔اس حکمتِ عملی کو وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے نوجوان ووٹرز کے ساتھ رابطہ مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ بھارت کی آبادی میں نوجوانوں کا حصہ نمایاں ہے۔بی جے پی کے مرکزی انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں اسے ’اسپارٹیکس‘ سیریز کے جنگجو کردار کے انداز میں پیش کیا گیا، جبکہ ریاستی سطح کے اکاؤنٹس کو بھی جنگجوؤں کی شکل میں دکھایا گیا۔ پوسٹس میں قوم پرستی کے پیغامات کو نوجوانوں میں مقبول بصری انداز اور ’Gen-Z‘ طرز کی انگریزی زبان کے ساتھ جوڑا گیا۔بی جے پی کی حالیہ مہم میں مقبول کارٹون کردار موٹو پتلو اور اسپائیڈر مین بھی شامل رہے۔ ایک پوسٹ میں موٹو پتلو کے ذریعے اتر پردیش میں حکومت کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق اقدامات کو اجاگر کیا گیا۔اس کے علاوہ کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کو ہدف بنانے کیلئے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ کارٹونز اور دیگر تصویری مواد بھی استعمال کیا گیا۔ ایک پوسٹ میں ہالی ووڈ فلم ’امریکن سائیکو‘ کے ایک منظر کے ذریعے راہول گاندھی پر طنز کیا گیا اور ان کے ایک سیاسی بیانیے کو ناکام قرار دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق نوجوانوں تک رسائی کیلئے بی جے پی کی حکمتِ عملی میں وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے انسٹاگرام پر عمودی ویڈیوز کے ذریعے براہِ راست نوجوانوں سے رابطہ بھی اہم حصہ بن گیا ہے۔پارٹی نے حال ہی میں اپنے سوشل میڈیا شعبے میں بھی تبدیلی کی۔ طویل عرصے تک اس شعبے کی نگرانی کرنے والی امیتا مالویہ کی جگہ دیپک مہسکے کو ذمہ داری سونپی گئی۔دیپک مہسکے نے 18 اگست کو این ڈی ٹی وی سے گفتگو میں کہا تھا کہ ان کی ترجیح انسٹاگرام ہوگا، کیونکہ نوجوان بڑی تعداد میں اسی پلیٹ فارم پر موجود ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی پالیسیوں سے متعلق معلومات نوجوانوں تک پہنچانے کیلئے ’ریلز‘ پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔بی جے پی کے سوشل میڈیا مواد میں ’Brothaa‘، ’It’s Kinda Chic‘ اور ’It’s Done Bro‘ جیسے الفاظ اور جملے بھی شامل کیے جارہے ہیں، جن کا مقصد روایتی سیاسی زبان کے بجائے نوجوانوں کی ڈیجیٹل ثقافت سے ہم آہنگ انداز اختیار کرنا ہے۔رپورٹ میں جولائی کے احتجاج کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جب اداکار سلمان خان نے سماجی کارکن سونم وانگچک کو بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کرنے کیلئے ’It’s Done Bro‘ کا جملہ استعمال کیا تھا۔ اسی دوران وزیراعظم مودی نے بھی نوجوانوں سے رابطے کیلئے انسٹاگرام کی عمودی ویڈیوز کا استعمال بڑھایا۔نوجوان ووٹرز تک رسائی کی کوشش صرف بی جے پی تک محدود نہیں۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی بھی نوجوانوں، بالخصوص طلبہ سے رابطے کیلئے ’چھاتروں کی گون‘ یعنی ’طلبہ کی آواز‘ کے عنوان سے تقریبات منعقد کررہے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد کو عموماً جنریشن زیڈ کہا جاتا ہے، جو بھارت کی مجموعی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی ہیں۔ 1981 سے 1996 کے درمیان پیدا ہونے والے ملینیئلز بھی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں۔اسی وجہ سے بھارت کی بڑی سیاسی جماعتوں کیلئے نوجوان نسل ایک اہم ووٹر گروپ بن چکی ہے، جبکہ سوشل میڈیا سیاسی بیانیے کو نوجوانوں تک پہنچانے اور تیزی سے پھیلانے کا اہم ذریعہ بن گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے