پمز کے بعد پولی کلینک میں بھی فائر سیفٹی انتظامات نامکمل ہونے کا انکشاف

پمز ہسپتال کے بعد اسلام آباد کے بڑے سرکاری اسپتال پولی کلینک میں بھی فائر اور لائف سیفٹی انتظامات میں سنگین خامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے فائر آڈٹ میں اسپتال میں 34 فائر اور لائف سیفٹی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی فوری اصلاح کی ہدایت کی گئی ہے۔سی ڈی اے کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق پولی کلینک کے مرکزی کچن کے قریب گیس لیکیج پائی گئی، جسے فوری طور پر درست کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ رپورٹ میں اسپتال کے متعدد اہم حصوں میں مناسب ایمرجنسی ایگزٹس نہ ہونے جبکہ کئی ہنگامی راستوں کے بند یا رکاوٹوں کا شکار ہونے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ پولی کلینک میں آٹومیٹک فائر ڈیٹیکشن اور مینوئل فائر الارم سسٹم موجود نہیں۔ اسپتال میں اسپرنکلر، ہوز ریلز، ویٹ رائزر اور یارڈ ہائیڈرینٹ سسٹم بھی دستیاب نہیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق فائر فائٹنگ کے لیے اسپتال میں زیرِ زمین اور چھت پر مخصوص پانی کے ٹینک بھی موجود نہیں، جبکہ بجلی کی وائرنگ کو انتہائی ناقص قرار دیا گیا ہے۔سی ڈی اے آڈٹ میں آئی سی یو، سی سی یو اور این آئی سی یو کے مریضوں کے انخلا کے لیے مناسب انتظامات نہ ہونے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسپتال میں ایمرجنسی اور انخلا کا باقاعدہ پلان بھی موجود نہیں۔آڈٹ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پولی کلینک میں ایمرجنسی لائٹس، ایگزٹ سائنز اور اسمبلی ایریا کا مناسب انتظام نہیں، جبکہ فائر سیفٹی ٹریننگ اور ابتدائی فائر فائٹنگ ٹیم بھی موجود نہیں ہے۔سی ڈی اے نے اسپتال میں صفائی کے ناقص انتظامات اور سیڑھیوں پر نان سلپ پروٹیکشن نہ ہونے کی نشاندہی بھی کی۔ اس کے علاوہ فائر بلینکٹ، حفاظتی سامان اور شیشوں کے لیے اینٹی شٹر پروٹیکشن کی عدم دستیابی بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔رپورٹ کے مطابق اسپتال کے اہم حصوں میں فائر کمپارٹمنٹیشن کا مناسب انتظام بھی موجود نہیں۔سی ڈی اے نے پولی کلینک کی تمام ایمرجنسی ایگزٹس فوری طور پر بحال کرنے، گیس لیکیج اور غیر محفوظ بجلی کی وائرنگ درست کرنے جبکہ فائر الارم، ڈیٹیکشن اور فائر فائٹنگ سسٹمز ترجیحی بنیادوں پر نصب کرنے کی سفارش کی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں سی ڈی اے نے پولی کلینک کی فائر اور لائف سیفٹی خامیوں کی فوری اصلاح کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خامیوں کی اصلاح کے بعد اسپتال کا دوبارہ معائنہ کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے