وزیراعظم آزاد کشمیر نامزد ہونے والے بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں ؟

مظفرآباد(عدیل جرال )زاد جموں و کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہونے والے بیرسٹر سید افتخار گیلانی کو وزیراعظم آزاد کشمیر کے منصب کے لیے پارٹی کا امیدوار فائنل کرلیا ہے، تاہم پارٹی کے بعض سینئر رہنماؤں کی جانب سے اس فیصلے پر تحفظات سامنے آنے کے بعد سیاسی صورتحال ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہوگئی ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے انتخاب کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس ایک روز کے لیے مؤخر کردیا گیا ہے تاکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت پارٹی کے اندر موجود اختلافات اور تحفظات پر مشاورت مکمل کرکے حتمی فیصلہ کرسکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم کے منصب کے لیے نامزد کیے جانے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے بعض اہم رہنماؤں نے فیصلے پر اپنے تحفظات قیادت تک پہنچائے ہیں۔ تاہم پارٹی قیادت کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔سیاسی حلقے وزیراعظم کے انتخاب میں تاخیر کو غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں، کیونکہ اسمبلی میں حکومت سازی کے مرحلے پر مسلم لیگ (ن) کو نہ صرف اپنے ارکان کو متحد رکھنے بلکہ پارٹی کے اندر پیدا ہونے والے اختلافات کو بھی ختم کرنا ہوگا۔بیرسٹر سید افتخار گیلانی کا تعلق مظفرآباد کے ایک معروف اور سیاسی طور پر بااثر خاندان سے ہے۔ ان کے خاندان کو آزاد کشمیر میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ابتدائی سیاسی بنیاد رکھنے والی شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد میں حاصل کی، جس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے۔ لندن میں قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی اور پاکستان واپس آکر اسلام آباد میں وکالت شروع کی۔بیرسٹر افتخار گیلانی تقریباً ایک دہائی تک اسلام آباد میں شعبہ قانون سے وابستہ رہے، جس کے بعد انہوں نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔2011 میں پہلی مرتبہ اسمبلی پہنچےبیرسٹر افتخار گیلانی نے 2011 کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کرکے پہلی مرتبہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔اس وقت آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم تھی، جبکہ انتخابی میدان میں انہیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس کے اتحاد سے بھی سیاسی مقابلے کا سامنا تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے حلقے میں کامیابی حاصل کرکے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی سیاست میں اپنی جگہ بنائی۔2016 کے عام انتخابات میں بھی بیرسٹر سید افتخار گیلانی نے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا اور کامیاب ہوکر دوسری مرتبہ قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ان انتخابات میں انہوں نے اپنے سیاسی حریف خواجہ فاروق احمد کو واضح برتری سے شکست دی۔ دوسری مرتبہ اسمبلی پہنچنے کے بعد انہیں آزاد کشمیر حکومت میں اہم ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں۔ محکمہ تعلیم میں اصلاحات اور این ٹی ایس نظام بیرسٹر افتخار گیلانی کے سیاسی کیریئر کا ایک نمایاں پہلو ان کا بطور وزیر تعلیم کردار بھی رہا ہے۔ ان کے دور میں محکمہ تعلیم میں بھرتیوں کے نظام میں تبدیلیاں متعارف کرانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ان کے دور وزارت میں نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس) کے ذریعے بھرتیوں کے نظام کو متعارف کرایا گیا، جس کا بنیادی مقصد تقرریوں کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو فروغ دینا تھا۔اس کے علاوہ محکمہ تعلیم میں تعلیمی معیار کی بہتری، اساتذہ کی اہلیت اور بھرتیوں کے طریقہ کار سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات کے لیے بھی اقدامات کیے گئے۔وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزدگی نے سیاسی بحث چھیڑ دی بیرسٹر افتخار گیلانی کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزدگی نے آزاد کشمیر کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک جانب مسلم لیگ (ن) کی قیادت ان کے سیاسی تجربے، قانونی پس منظر اور حکومتی امور سے واقفیت کو اہمیت دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب پارٹی کے بعض سینئر رہنماؤں کے تحفظات نے حتمی فیصلے کے حوالے سے سوالات پیدا کردیئے ہیں۔اب نظریں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں وزیراعظم کا انتخاب ہونا ہے۔ اجلاس ایک روز آگے کیے جانے کے بعد یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس دوران پارٹی کے اندر موجود اختلافات دور کرنے اور ارکان اسمبلی کو ایک متفقہ فیصلے پر لانے کی کوشش کرے گی۔بیرسٹر افتخار گیلانی کی صورت میں مسلم لیگ (ن) کے سامنے ایک ایسے امیدوار کا نام ہے جس کے پاس قانون، تعلیم اور پارلیمانی سیاست کا تجربہ موجود ہے، تاہم ان کی وزارتِ عظمیٰ کا حتمی راستہ پارٹی کے اندر موجود تحفظات دور کرنے اور اسمبلی میں مطلوبہ سیاسی حمایت برقرار رکھنے سے مشروط دکھائی دیتا ہے۔آزاد کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل کے اس اہم مرحلے پر وزیراعظم کے انتخاب کا فیصلہ نہ صرف مسلم لیگ (ن) کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین کرے گا بلکہ خطے کی آئندہ حکومتی ترجیحات اور سیاسی صف بندی پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے