اسرائیلی فوج کی سیکیورٹی میں فلسطینی شہدا کی یادگار مسمار، رکن پارلیمنٹ کارروائی کی زد میں
مغربی کنارے میں فلسطینی شہدا کی یاد میں تعمیر کی گئی یادگار اسرائیلی دائیں بازو کے رکن پارلیمنٹ زوی سوکوت نے ہتھوڑے مار کر منہدم کردی، جبکہ واقعے کے دوران انہیں اسرائیلی فوج کی سیکیورٹی حاصل تھی۔ واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد اسرائیل میں بھی شدید تنقید کی گئی۔عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق زوی سوکوت اور ان کے ساتھیوں کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ بڑے ہتھوڑوں سے فلسطینی شہدا کی یادگار کو توڑ رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوجی قریب موجود ہیں۔یہ ویڈیو ابتدائی طور پر فلسطینی میڈیا نے جاری کی، جس کے بعد زوی سوکوت نے اسے خود بھی شیئر کیا۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے واقعے سے متعلق وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سوکوت نے 12 اگست کو مغربی کنارے کے دیہات بیتا، بورین اور مادما میں یادگاروں کے ’معائنے‘ کے لیے اجازت طلب کی تھی۔اسرائیلی فوج کے مطابق مذکورہ علاقے مغربی کنارے کے ان حصوں میں شامل ہیں جہاں اسرائیلی شہریوں کا فوجی رابطہ کاری کے بغیر داخلہ ممنوع ہے۔ سوکوت کا دورہ فوجیوں کی سیکیورٹی میں کرایا گیا اور اس مقصد کے لیے علاقے میں تعینات اہلکاروں کو معمول کی ذمہ داریوں سے ہٹایا گیا تھا۔فوج نے کہا کہ وائرل ویڈیو میں زوی سوکوت اور ان کے ساتھیوں کو منظور شدہ دورے کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یادگار توڑتے دیکھا گیا۔ فوجی اہلکاروں نے واقعہ دیکھ کر اپنے کمانڈروں کو اطلاع دی، جنہوں نے فوری طور پر دورہ ختم کرنے اور سوکوت و ان کے ساتھیوں کو گاؤں سے باہر نکالنے کی ہدایت کی۔مادما میں قائم یہ یادگار اسرائیل جنگ میں شہید ہونے والے مقامی فلسطینیوں کی یاد میں تعمیر کی گئی تھی۔ ان میں یمان طیب علی فرج کا نام بھی شامل تھا، جنہیں اسرائیلی حکام 2003 میں ایک خودکش حملے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔زوی سوکوت نے یادگار توڑتے ہوئے کہا کہ اس میں شادی ناصر کا نام بھی شامل ہے، جو ان کے مطابق 2002 میں مغربی کنارے کی ایک اسرائیلی بستی کے ہوٹل میں خودکش حملے میں ملوث تھے۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی بھی شخص، خصوصاً سرکاری عہدہ رکھنے والے فرد کی جانب سے قانون اپنے ہاتھ میں لینا ناقابل قبول ہے۔ تاہم بیان میں واقعے کی براہ راست مذمت نہیں کی گئی اور کہا گیا کہ مغربی کنارے میں فوج سیاسی قیادت اور خودمختار اتھارٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد کی ذمہ دار ہے۔اپوزیشن رہنما اور نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریف گادی آئزن کوٹ نے یادگار مسمار کیے جانے کے واقعے کو شرمناک قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ فوج اور اس کے کمانڈروں کو گمراہ کیا گیا، سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالا گیا اور اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا۔سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی واقعے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ عملی اقدامات سے کیا جاتا ہے، اشتعال انگیز حرکات سے نہیں۔اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے کہا کہ مغربی کنارے میں ایسی یادگاریں مسمار کرنے کا اختیار صرف ریاست، فوج اور سیکیورٹی فورسز کے پاس ہے۔واضح رہے کہ زوی سوکوت نے جولائی میں مشرقی یروشلم میں ایک فلسطینی اسکول کے سائن بورڈ کو بھی ہتھوڑے مار کر توڑا تھا اور اسکولوں میں فلسطینی اتھارٹی کے نصاب پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔