خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی پارلیمان سے منظوری، اپوزیشن کا شدید احتجاج
اسلام آباد: قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بدھ کو خیبرپختونخوا میں صدر آصف علی زرداری کی جانب سے نافذ کی گئی ایمرجنسی کی منظوری دے دی۔ ایوان میں اپوزیشن ارکان نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید مخالفت کی، تاہم قرارداد اکثریتی ووٹ سے منظور کرلی گئی۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایمرجنسی کی منظوری سے متعلق قرارداد پیش کی۔ اس سے قبل انہوں نے سوالوں کا وقفہ معطل کرنے کی تحریک بھی پیش کی، جسے اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود اکثریت سے منظور کرلیا گیا۔بعد ازاں ایوان میں خیبرپختونخوا میں نافذ ایمرجنسی کے اقدامات پر بحث ہوئی۔ اپوزیشن ارکان نے وفاقی حکومت کے فیصلے کے خلاف شدید احتجاج اور نعرے بازی کی، تاہم ایمرجنسی کی منظوری سے متعلق قرارداد اکثریتی ووٹ سے منظور کرلی گئی۔ اجلاس جمعہ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا دہشت گردی سے نمٹنے کا طرزِ عمل قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا تھا۔انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صدر کی جانب سے جاری کردہ ایمرجنسی کے اعلان کو 10 روز کے اندر قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے لیے پیش کرنا ضروری ہے۔اعظم نذیر تارڑ کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج 11 اکتوبر کو نافذ کیا گیا، جس کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت معطل ہوگئی۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کا جواز صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق کے ساتھ مبینہ عدم تعاون کو قرار دیا ہے۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ ایمرجنسی نافذ کرنے سے قبل وفاقی کابینہ نے تقریباً ڈھائی گھنٹے صورتحال پر غور کیا اور داخلی بدامنی اور سرحد پار دراندازیوں کو اہم عوامل قرار دیتے ہوئے سفارشات پیش کیں۔انہوں نے کہا کہ مؤثر انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان قریبی رابطہ اور مربوط حکمت عملی ضروری ہے۔ ان کے مطابق 2021 کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے مختلف عوامل میں بیرونی، سفارتی اور سیاسی پیش رفت بھی شامل ہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے دہشت گردی کے خلاف مسلح افواج، پولیس، سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کو انسداد دہشت گردی کی کوششوں پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کی تعداد 2021 سے 2024 کے عرصے کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے دہشت گردی کے واقعات اور سکیورٹی اہلکاروں و شہریوں کو پہنچنے والے نقصانات کو نظر انداز کیا اور سیاسی سرگرمیوں کو ترجیح دی۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور بات چیت کو ترجیح دی۔انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے صدر اور وزیراعظم کے فیصلے کے احترام میں ثالثی کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا۔وفاقی وزیر قانون کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر برائے کشمیر امور امیر مقام اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بھی معاملے کو جمہوری انداز میں حل کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے بتایا کہ صدر کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نوید قمر، شیری رحمان اور اعجاز جاکھرانی کو مذاکرات میں شرکت کے لیے نامزد کیا، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر اور علامہ راجا ناصر عباس نے وفد کی قیادت کی۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کسی مقدمے کا سامنا کرنے والے شخص کے خلاف کارروائی کا آئینی اور قانونی طریقہ موجود ہے اور اگر کوئی قانونی مداخلت اس پورے عمل کو روک سکتی ہے تو وہ عدالت ہے۔دوسری جانب پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’’دہشت گرد حکومت‘‘ قرار دیا اور خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے عوامی مینڈیٹ کو کمزور کیا اور پی ٹی آئی کو انتخابی نشان سے محروم کرکے اس کے امیدواروں کو مختلف انتخابی نشانات پر انتخابات لڑنے پر مجبور کیا گیا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی کی انتخابی کامیابی کی سزا پورے ملک کے 24 کروڑ عوام کو دی جا رہی ہے؟ انہوں نے سہیل آفریدی کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے مبینہ جبر کے خلاف مزاحمت کا حوصلہ دکھایا ہے۔انہوں نے صوبائی حقوق کے معاملے پر سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور پنجاب کے عوام بھی اپنے حقوق سے محرومی کے خلاف مزاحمت کرسکتے ہیں۔اچکزئی نے خبردار کیا کہ پانی، معدنیات اور نہروں کے تنازعات پر سندھ میں بھی گورنر راج نافذ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرے اور پارلیمان کو سیاسی فیصلوں کا مرکز بنایا جائے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر سیاسی حالات ایسے پیدا کیے جائیں جن میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی ضرورت باقی نہ رہے تو وہ ذاتی طور پر وزیراعظم شہباز شریف سے ایمرجنسی ختم کرنے کی درخواست کریں گے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ آج بھی پی ٹی آئی کو حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں تاکہ ایسے سیاسی حالات پیدا کیے جا سکیں جن میں ایمرجنسی کی ضرورت نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے آئینی اقدام سے قبل اپوزیشن سے بات چیت کے لیے ہر ممکن سیاسی کوشش کی، تاہم پی ٹی آئی اپنے کردار سے انکار نہیں کرسکتی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں اپنی ہی حکومت کے خلاف ’’سیاسی خودکش حملہ‘‘ کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت کے موجودہ حالات پیدا ہونے میں پی ٹی آئی، بالخصوص صوبائی قیادت، کا اہم کردار ہے۔