پی ٹی آئی کے ٹی ٹی پی سے رابطوں کے قابل اعتماد شواہد موجود ہیں، عطا تارڑ
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے منگل کو دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے رابطوں کے ’’قابل اعتماد شواہد‘‘ موجود ہیں، جن کی تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ غیر ملکی صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کے پاس ایسے شواہد1موجود ہیں جن سے پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کے درمیان مبینہ روابط کا پتا چلتا ہے۔عطا تارڑ نے کہا، ’’حکومت کے پاس قابل اعتماد شواہد ہیں کہ پی ٹی آئی ٹی ٹی پی کے ساتھ رابطے میں تھی اور بہت جلد ان روابط سے متعلق سامنے آنے والے شواہد پیش کیے جائیں گے۔‘‘انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت نے دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کیا اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مصروف سکیورٹی اہلکاروں کو مناسب تعاون فراہم نہیں کیا۔وزیر اطلاعات نے سوال اٹھایا کہ ایک ایسی حکومت، جس کی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور صوبے میں امن و امان برقرار رکھنا ہے، وہ دہشت گرد سرگرمیوں کو فروغ دینے والوں کے ساتھ کیسے تعاون کر سکتی ہے؟انہوں نے پی ٹی آئی قیادت پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف ایسا بیانیہ اختیار کرنے کا بھی الزام عائد کیا جس سے، ان کے بقول، دہشت گرد گروہوں کو تقویت ملی۔عطا تارڑ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرنے والے مسلح افواج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے صوبائی حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر ناکافی تعاون کے باوجود قربانیاں دیں۔وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکاروں اور تنصیبات پر دہشت گرد حملوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں دہشت گردی کے 3,774 واقعات ریکارڈ کیے گئے جبکہ ستمبر 2026 تک یہ تعداد 2,857 رہی۔انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی سے ہونے والی اموات کی تعداد 2021 میں 267 تھی جو 2025 میں بڑھ کر 3,512 ہوگئی، جبکہ 2026 میں بریفنگ کے وقت تک یہ تعداد 2,775 تک پہنچ چکی تھی۔عطا تارڑ کے مطابق پولیس کو نشانہ بنانے والے حملوں میں 168 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ دو برس کے دوران پولیس کی 18 تنصیبات کو نشانہ بنایا انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ انتظامی تبدیلی سے سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو مؤثر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی کی قیادت میں صوبائی حکومت پر دہشت گردی سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں ناکامی کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی پالیسیوں کے باعث دہشت گرد گروہوں کو سرگرمیوں کا موقع ملا جبکہ صوبائی انتظامیہ اور وفاق کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے درمیان رابطے کا فقدان رہا۔ عطا تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مذاکرات کا بنیادی موضوع انسداد دہشت گردی تھا اور ان مذاکرات کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارا صرف ایک ایجنڈا تھا، کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں تھا۔‘‘ ان کے مطابق صوبائی حکومت سکیورٹی اقدامات سے متعلق مذاکرات کے ساتھ اپنی سیاسی سرگرمیاں بھی جاری رکھ سکتی تھی۔