وفاقی، صوبائی اور مقامی سول سروسز میں جامع اصلاحات کی ضرورت پر زور
اسلام آباد: ماہرین نے آئینی تقاضوں کے مطابق پاکستان کی وفاقی، صوبائی اور مقامی سول سروسز میں جامع اصلاحات اور ازسرِنو تنظیم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان انتظامی اختیارات کے موجودہ خلا کے باعث مؤثر طرزِ حکمرانی متاثر ہو رہا ہے جبکہ صوبائی انتظامیہ، اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں کی کارکردگی بھی کمزور پڑ رہی ہے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ حقیقی صوبائی خودمختاری اس وقت تک ممکن نہیں جب تک صوبوں کی آئینی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ انتظامی، مالی اور انسانی وسائل کے نظام تشکیل نہ دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کے لیے صرف انتخابات کا انعقاد کافی نہیں، بلکہ منتخب بلدیاتی اداروں کو مستقل، تربیت یافتہ اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر کام کرنے والی سول سروس بھی فراہم کرنا ہوگی۔ان خیالات کا اظہار ماہرین نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کے زیر اہتمام ’’نیشنل ریفارم موومنٹ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ قومی اصلاحاتی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار میں سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز، پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات ندیم افضل چن، معروف ماہرِ معاشیات ڈاکٹر میاں اقبال، سول رائٹس ایکٹوسٹ واصف طارق محمود اعوان سمیت دیگر ماہرین نے شرکت کی۔مقررین نے کہا کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا عمل اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک مقامی حکومتوں کو واضح قانونی دائرۂ اختیار، مناسب مالی وسائل، انتظامی اختیارات اور اپنی پیشہ ورانہ سول سروس فراہم نہ کی جائے۔انہوں نے زور دیا کہ سول سروس میں اصلاحات کا عمل محض موجودہ سروسز کے نام تبدیل کرنے یا نئے پیشہ ورانہ گروپس تشکیل دینے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے بجائے اصلاحات کے ذریعے پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کو بنیادی طور پر ازسرِنو منظم کیا جائے تاکہ آئینی حکمرانی، وفاقیت، جمہوری جواب دہی، پیشہ ورانہ صلاحیت اور بامعنی مقامی خودمختاری کے اصولوں کو عملی شکل دی جا سکے۔ماہرین نے مزید کہا کہ سول سروس کو منتخب حکومتوں کے متبادل کے بجائے ان کے مؤثر انتظامی معاون کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ سول سروس کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے آئینی اختیارات اور ذمہ داریوں کا احترام کرتے ہوئے انہیں مؤثر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔مقررین نے کہا کہ وفاقی، مشترکہ، صوبائی اور مقامی سول سروسز پر مشتمل واضح اور مربوط انتظامی ڈھانچہ وفاقیت کو مضبوط بنانے، عوامی انتظام و انصرام بہتر کرنے، جمہوری جواب دہی یقینی بنانے اور مقامی حکومتوں کے نظام کو حقیقی معنوں میں مؤثر بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔