تعلیمی بحران سے نمٹنے کے لیے جامع حکمتِ عملی ناگزیر
لاہور: سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CASS) لاہور نے پاکستان کے تعلیمی بحران سے نمٹنے، ریاستی صلاحیت بہتر بنانے اور ملک کے افرادی وسائل کی ترقی کے لیے جامع اور طویل المدتی حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔CASS لاہور میں 7 اکتوبر 2026 کو ’’خطرے سے دوچار افرادی وسائل: تعلیم، ریاستی صلاحیت اور پاکستان کا ترقیاتی چیلنج‘‘ کے عنوان سے گول میز اجلاس منعقد ہوا، جس میں ماہرین تعلیم، دانشوروں اور مختلف شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان کے تعلیمی نظام کو درپیش بنیادی مسائل اور قومی ترقی پر ان کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔CASS لاہور کی ریسرچ اسسٹنٹ فائزہ عابد نے اجلاس کا افتتاحی خطاب کیا اور گفتگو کے لیے پس منظر فراہم کیا۔LUMS اسکول آف ایجوکیشن کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صوفیہ انیس صدیقی نے پاکستان کے تعلیمی بحران کی سنگینی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق ملک میں 2 کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا ہیومن کیپیٹل انڈیکس 0.41 ہے، جبکہ تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا صرف تقریباً 0.8 فیصد مختص کیا جاتا ہے، جس کے ساتھ طلبہ میں سیکھنے کی صلاحیت کے حوالے سے بھی مسلسل کمزوریاں موجود ہیں۔ڈاکٹر صوفیہ صدیقی نے کہا کہ پاکستان کا تعلیمی مسئلہ صرف اسکولوں تک رسائی یا تعلیمی نتائج تک محدود نہیں بلکہ تعلیم کے تصور اور اس کے مقاصد پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے انسانی وسائل کی ترقی کے محدود تصور پر سوال اٹھاتے ہوئے تعلیم کے وسیع تر سماجی کردار کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کو وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جس کے وہ مستحق ہیں، جبکہ ابلاغ، حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے اور ڈیجیٹل مہارتوں میں بھی نمایاں خلا موجود ہے۔انہوں نے پاکستان کی آبادیاتی صورتحال اور بدلتی ہوئی سماجی، معاشی اور تکنیکی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیم کے لیے زیادہ وسیع، جامع اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والے وژن کی ضرورت پر زور دیا۔سندھ حکومت کے اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کی چیف ایگزیکٹو ایڈوائزر ڈاکٹر فوزیہ خان نے کہا کہ پاکستان کے افرادی وسائل کی ترقی کے لیے مؤثر تعلیمی حکمرانی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے انسانی وسائل کی ترقی کو تعلیم کے ایک مسلسل سلسلے سے تعبیر کیا، جس کے چار باہم مربوط مراحل داخلہ، تعلیمی سفر جاری رکھنا، ترقی اور مسلسل سیکھنا ہیں۔ڈاکٹر فوزیہ خان نے مؤثر منصوبہ بندی، اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی، اساتذہ کے پیشہ ورانہ انتظام، مناسب وسائل کی فراہمی اور کمیونٹی کی بامعنی شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اصلاحات کو پائیدار حکومتی ڈھانچے کا حصہ بنانے کے ساتھ ساتھ شواہد کی بنیاد پر ان پر عمل درآمد اور مختلف اداروں کے درمیان مربوط شراکت داری ضروری ہے۔اختتامی کلمات میں CASS لاہور کے صدر ایئر مارشل (ر) عاصم سلیمان نے تعلیم کو پاکستان کے افرادی وسائل، سماجی ترقی اور معاشی مستقبل کا بنیادی ستون قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ حقیقی پیش رفت کے لیے صرف تعلیمی مواقع میں اضافہ کافی نہیں بلکہ سیکھنے کے نتائج بہتر بنانے اور معیاری تعلیم کی فراہمی کے ذمہ دار اداروں کو مضبوط بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے جنس، جغرافیائی محلِ وقوع اور آمدن کی بنیاد پر موجود تعلیمی عدم مساوات کی نشاندہی کرتے ہوئے تعلیم کو ہنرمندی کی ترقی، روزگار، سماجی تحفظ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے منسلک کرنے پر زور دیا۔ایئر مارشل (ر) عاصم سلیمان نے مستقبل کے لیے تین اہم ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نتائج میں بہتری، تعلیم کے لیے مختص سرمایہ کاری کے مؤثر استعمال اور تعلیم کو ایک وسیع تر طویل المدتی افرادی وسائل کی حکمتِ عملی سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے پالیسیوں میں تسلسل اور ادارہ جاتی عزم کو ناگزیر قرار دیا۔اجلاس کے اختتام پر اساتذہ کی تربیت، گھریلو تعلیم، تعلیمی معیار، مالی وسائل کی کمی اور پاکستان کے تعلیمی شعبے کو درپیش ساختی مسائل سمیت مختلف امور پر تفصیلی اور باہمی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شرکا نے ملک کے اہم ترین طویل المدتی ترقیاتی چیلنجز میں سے ایک پر بامعنی اور جامع گفتگو کے انعقاد پر CASS لاہور کی کاوش کو سراہا۔