امریکا ایران تنازع میں پاکستان کا کردار قابلِ فخر ہے: انتونیو گوتریس
اسلام آباد: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکا اور ایران کے درمیان تنازع میں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور ثالثی میں پاکستان کے قائدانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، بعد ازاں جنگ بندی اور مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تشکیل دینے میں مدد ملی۔اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ ہر پاکستانی کو اپنے ملک کے اس اہم اور فیصلہ کن کردار پر فخر ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وہ اسلام آباد سے تمام فریقین کو واضح پیغام دینے آئے ہیں کہ تنازع ختم کیا جائے اور سفارت کاری کی طرف واپس آیا جائے۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری آمدورفت کے حقوق اور آزادیوں کی مکمل بحالی پر بھی زور دیا۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ خطے میں اس وقت تک پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، جس کے لیے پاکستان طویل عرصے سے آواز اٹھاتا آیا ہے۔انتونیو گوتریس نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے پاکستان کا کردار نمایاں رہا ہے۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور بداعتمادی کے ماحول میں پاکستان نے کثیرالجہتی نظام، مذاکرات، ثالثی اور سفارت کاری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں طویل عرصے سے اہم اور بڑے پیمانے پر خدمات انجام دینے والے ممالک میں شامل ہے۔ ان کے مطابق جامع ادارے، انسانی حقوق کا احترام اور فعال شہری فضا سماجی ہم آہنگی کے فروغ، اعتماد سازی اور عوام کو ملک کے مستقبل میں بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے ضروری ہیںگوتریس نے کہا کہ پاکستانی مرد و خواتین نے دنیا کے مشکل ترین اور خطرناک ترین علاقوں میں ہمت اور امتیاز کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں، جبکہ 180 سے زائد پاکستانی اہلکار امن کے قیام کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2823 کے حوالے سے ڈنمارک کے ساتھ پاکستان کی قیادت کو بھی سراہا، جس کا مقصد اقوام متحدہ کے امن دستوں کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کے احتساب کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 153 ممالک نے اس قرارداد کی حمایت کی، جو اقوام متحدہ کی تاریخ میں سلامتی کونسل کی کسی قرارداد کے لیے سب سے زیادہ شریک ممالک کی تعداد ہے۔انتونیو گوتریس نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے باعث بے پناہ مشکلات برداشت کی ہیں اور ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ اقوام متحدہ کی یکجہتی کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور جائز سکیورٹی خدشات سے نمٹنا ضروری ہے، تاہم مضبوط اور مؤثر سکیورٹی کی ضمانت بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے تحت ہی ممکن ہے۔موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے گوتریس نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کے اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ وہاں ہونے والی تباہی کبھی نہیں بھول سکتے۔ تاہم، ان کے بقول، انہوں نے پاکستانی عوام کی استقامت، عزم اور یکجہتی بھی دیکھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں انتہائی معمولی حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی صفِ اول میں موجود ہے۔ اسی طرح پاکستان موسمیاتی بحران سے نمٹنے کی کوششوں میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے، جس میں لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کے قیام میں پاکستان کی قیادت اور ملک میں صاف توانائی کی جانب بڑھتی ہوئی منتقلی شامل ہے۔گوتریس نے کہا کہ ترقی پذیر اور موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کی قیادت، ترقی یافتہ ممالک کی ذمہ داری کا متبادل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے رواں دہائی کے دوران عالمی سطح پر کاربن اخراج میں نمایاں کمی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں کے اصول کا اطلاق ہونا چاہیے، تاہم تمام ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا کہ وہ باکو میں ہونے والی COP29 میں کیے گئے وعدے پورے کریں اور ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی لچک پیدا کرنے اور منصفانہ توانائی منتقلی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے مالی معاونت، ٹیکنالوجی اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کریں۔اپنے خطاب کے اختتام پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان کو دیگر ممالک کی طرح مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم پاکستانی عوام کی استقامت اور بہتر مستقبل کی تعمیر کے عزم نے ہمیشہ انہیں متاثر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ شراکت داری مزید مضبوط بنانے اور یہ پیغام دینے آئے ہیں کہ اقوام متحدہ پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ پاکستانی عوام کا شکر گزار ہے کہ وہ دنیا کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں انتونیو گوتریس کی قیادت اور کثیرالجہتی نظام، بین الاقوامی قانون، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے ان کے اصولی عزم کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ انتونیو گوتریس پاکستان کے عظیم دوست ہیں اور 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستانی عوام کے ساتھ ان کی یکجہتی اور بحالی و تعمیرِ نو کے لیے عالمی حمایت متحرک کرنے کی کوششوں کو پاکستان کبھی فراموش نہیں کرے گا۔اسحاق ڈار نے بتایا کہ ان کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ انتہائی مفید اور نتیجہ خیز ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان اور اقوام متحدہ سے متعلق عالمی اور علاقائی چیلنجز سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی اور کھل کر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بات چیت میں عالمی و علاقائی امن و سلامتی، مغربی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور فلسطین، جنوبی ایشیا، جموں و کشمیر، افغانستان، دہشت گردی، امن مشنز کے مستقبل، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی اور کثیرالجہتی نظام کے مستقبل سمیت مختلف امور زیرِ بحث آئے۔وزیر خارجہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان وسیع تر تعاون اور عالمی ادارے کے کام میں پاکستان کی جاری خدمات کا بھی جائزہ لیا گیا۔