آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں گے: وزیراعظم
کوٹلی:وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر افتخار گیلانی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت جامع ترقیاتی منصوبے پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت عوامی ضروریات کو ترجیح دیتے ہوئے تمام منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں گے۔اتوار کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے زیر اہتمام منعقدہ عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم افتخار گیلانی نے کہا کہ حکومت گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے، بنیادی سہولیات کی فراہمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے پہلے 100 روزہ پروگرام کے تحت مقرر کیے گئے اہداف مرحلہ وار مکمل کیے جائیں گے۔ حکومت محض زبانی یقین دہانیوں پر یقین نہیں رکھتی، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، معیار اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔وزیراعظم نے سابق حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران بڑے بڑے دعووں کے باوجود کوئی اہم انفراسٹرکچر منصوبہ، خصوصاً سڑکوں کی تعمیر کا منصوبہ مکمل نہیں کیا گیا۔تعلیم کے حوالے سے وزیراعظم افتخار گیلانی نے کہا کہ صرف تعلیمی اداروں کو اپ گریڈ کرنا کافی نہیں، اساتذہ کی استعداد کار میں اضافہ اور انہیں جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا بھی ضروری ہے۔ حکومت دستیاب تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانے کیلئے اقدامات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل سہولیات کے دائرہ کار کو بھی وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے اور ایک ایسا پورٹل قائم کیا جائے گا جہاں عوام حکومتی ٹینڈرز، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر سرکاری اقدامات سے متعلق معلومات براہ راست حاصل کرسکیں گے۔اجتماع سے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر چوہدری طارق فاروق، وزیر سیاحت، صنعت و معدنی وسائل چوہدری عبدالرحمٰن آرائیں، وزیر خزانہ و بحالیات راجہ محمد ریاضت خان، وزیر تعلیم اسکولز انجینئر عمیر نعیم ایڈووکیٹ اور وزیر بجلی راجہ ثاقب مجید نے بھی خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے مرکز میں ترقی، انفراسٹرکچر، معاشی نمو اور عوامی سہولیات پر دی جانے والی ترجیح کو آزاد کشمیر میں بھی عملی شکل دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں عوام کی جانب سے مسلم لیگ (ن) پر کیے گئے اعتماد کا جواب ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کے ذریعے دیا جائے گا۔مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت عوامی شکایات کے ازالے کیلئے ’’شفایابی کے احساس‘‘ کی ضرورت کو تسلیم کرتی ہے اور لائن آف کنٹرول کے قریب آباد لوگوں کو درپیش مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔مقامی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ کوٹلی شہر کے شہریوں کو صاف پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے جو سب سے بڑا مسئلہ ہے، جبکہ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کیلئے رنگ روڈ کی تعمیر ناگزیر ہے۔