آزاد کشمیر بدامنی کیسز، 69 ایف آئی آرز درج، 122 ’شرپسند عناصر‘ گرفتار

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں 2025 کی چمیاٹی ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس اہلکاروں پر حملوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو زخمی کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے مقدمات میں اب تک 122 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ آئی جی آزاد کشمیر کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے چیف سیکریٹری خوشال خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ہنگامہ آرائی میں ملوث گروہوں کے خلاف 69 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں، جبکہ 122 ’شرپسند عناصر‘ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست نے صورتحال کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور امن کا راستہ اختیار کیا۔آئی جی آزاد کشمیر نے کہا کہ ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس، رینجرز، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور شہریوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بعض گروہوں نے عوامی حقوق کے مطالبات کو ذاتی مفادات اور وفاداریوں کے لیے استعمال کیا، جبکہ بارہا مکمل شٹر ڈاؤن کی کالز دے کر ریاستی معاملات کو متاثر کرنے، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے اور سرکاری املاک کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق یکم اکتوبر 2025 سے 4 جون 2026 تک مختلف تقاریر اور سرگرمیوں میں ’مکمل شٹر ڈاؤن‘ کا پیغام دیا جاتا رہا، تاہم 4 اور 5 جون کی درمیانی شب قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملوں کے بعد ریاست نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کم سے کم طاقت کا استعمال کیا۔لیاقت علی ملک نے کہا کہ چمیاتی میں تقریباً ایک سال قبل بھی پولیس پر حملہ کیا گیا تھا، جس میں کانسٹیبل طاہر رفیق، کانسٹیبل محمد جمیل اور ہیڈ کانسٹیبل محمد خورشید فائرنگ سے جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہید اہلکاروں کی لاشوں کی بے حرمتی بھی کی گئی اور واقعے کی ویڈیو شواہد موجود ہیں۔ آئی جی کے مطابق موجودہ صورتحال میں امن بحال ہے، آمدورفت معمول کے مطابق جاری اور بازار کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوششیں ناکام ہوئیں، انتخابات منعقد ہوئے اور بعد ازاں منتخب حکومت قائم ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے