عالمی امن کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے، پاکستان
اسلام آباد: عالمی یومِ امن کے موقع پر پاکستان نے عالمی امن و سلامتی کے قیام اور اقوام متحدہ کے مرکزیت پر مبنی مؤثر اور جامع کثیرالجہتی نظام کیلئے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق یہ دن اس امر کی یاد دہانی ہے کہ پائیدار امن کے حصول کیلئے مذاکرات، سفارت کاری اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی پاسداری ہی مؤثر راستہ ہے۔پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے تنازعات کے منصفانہ اور پائیدار حل کیلئے پرامن ذرائع اختیار کرے۔پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز میں طویل عرصے سے نمایاں فوجی دستے فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور تنازعات کی روک تھام و حل کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری پر مبنی جامع حکمت عملی کی حمایت کرتا ہے۔پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی سمیت تنازعات کے پرامن حل کیلئے سفارتی اقدامات بھی اسی عزم کا حصہ ہیں۔ گزشتہ سال سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کا متفقہ طور پر منظور ہونا بھی تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار ہے۔پاکستان کا کہنا ہے کہ حل طلب تنازعات علاقائی اور عالمی سطح پر عدم تحفظ کو ہوا دیتے ہیں۔ پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم نہ کیا جائے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہو۔پاکستان نے خاص طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال کو اس تناظر میں اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکی قبضے اور حل طلب تنازعات امن و سلامتی کیلئے مسلسل چیلنج ہیں۔پاکستان نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ پرامن، محفوظ اور خوشحال دنیا کے مشترکہ مقصد کے فروغ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔