کشمیر جرنلسٹس فورم کے وفد کی سردار عتیق احمد خان سے اہم نشست
اسلام آباد (اسپشیل رپورٹر)کشمیر جرنلسٹس فورم کی منتخب قیادت کی سابق وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر اور صدر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان صاحب کیساتھ خصوصی نشست، آزادکشمیر کی موجود سیاسی صورتحال،جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے جاری احتجاج ، ریاست کی وحدت کو لاحق خطرات اور مسلہ کشمیر کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی گئی۔اس موقع پر سوالات کے جواب دیتے ہوئے سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ مسلہ کشمیر اور ریاست کی وحدت کو 1950 سے لیکر آج تک ہر دور میں یکساں خطرات کا سامنا رہا ہے،فرق صرف اتنا ہے آزادکشمیر کی زیرک سیاسی قیادت نے اسے جرات اور حکمت کیساتھ ناکام بنایا۔اب ایک مرتبہ پھر ریاست کی بندر بانٹ اور آزادکشمیر کو صوبہ بنانے یا اس کی حیثیت تبدیل کیے جانے کی سازش کی جارہی ہے،مسلم کانفرنس اسے پوری قوت سے ناکام بنائے گی۔سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں مسلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی دباؤ تھا جس کا پرویز مشرف نے مقابلہ کرتے ہوئے بس سروس شروع کی تاکہ ریاست کے اسٹیٹس کو بحال رکھتے ہوئے لوگوں کو آپس ملنے دیا جائے،آر پار تجارت کا آغاز میری تجویز پر کیا گیا جب میں نے ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں جنرل پرویز مشرف سے کہا کہ بس چل گئی ہے،اب ٹرک چلا دیں اور پھر میں نے ہائی ملیٹرائیزڈ زون کو ٹریڈ اور کامرس زون میں تبدیل کرنے کی بات کی۔ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سردار عتیق احمد خان نے کہا گزشتہ تین سال کے دوران ایک سوچے منصوبے کے ذریعے آزادکشمیر کی سیاسی قیادت کو ڈس کریڈٹ کیا گیا، سستی بجلی اور آٹے کے ذریعے ایکشن کمیٹی کو عوام میں پذیرائی دلائی گئی،سردار عتیق احمد خان نے واضح طور پر کہا کہ مہاجرین جموں وکشمیر کی نشستوں کے خاتمے کا ایجنڈا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ہرگز نہیں تھا بلکہ ان کے ہاتھ میں تھمایا گیا جس کا نقصان آخر کار بنیادی حقوق کی تحریک کو ہوا۔انہوں نے کہا وہ اس تحریک کے خلاف ہر گز نہیں،طریقہ کار سے اختلاف ہے اور اس موقف پر قائم ہوں کہ اگر کچھ لوگ بھارت کی ایماء پر ریاست میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں اور ٹھوس ثبوت موجود ہیں تو ان کو الگ کر کے کارروائی کی جائے لیکن عام عوام کے خلاف کسی صورت طاقت کااستعمال نہیں ہونا چاہیے، بات چیت سے ہی پائیدار حل ممکن ہے۔ دھرنے میں مختلف مکتب فکر اور سیاسی جماعتوں کے لوگ موجود ہیں،انہیں ریاست کا نقطہ نظر سمجھانا ہوگا۔عربی باغ آبائی حلقے سے شکست کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اقتدار اللہ کی دین ہے،ہم سب کچھ دیکھ چکے ہیں ،اپنی ہار کو کھلے دل سے قبول کیا لیکن ساجد عباسی صاحب کا کام صرف پیسے خرچ کرنا تھا،باقی تمام سیاسی جماعتوں کو کو اکٹھا کر کے دیا گیا، نون لیگ ، پیپلز پارٹی،جے یو آئی،جماعت اسلامی سب کو ووٹ ان کی جھولی میں ڈالا گیا، الیکشن تو وہ جیت گئے ہیں،سیاست ایک مشکل کام ہے۔سردار عتیق احمد خان کا کہنا تھا کہ ایوان سے باہر رہ کر بھی اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے اور پورے آزادکشمیر میں مسلم کانفرنس کو از سر نو منظم کیا جائے گا۔اس موقع پر سردار عثمان علی خان نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ بحیثیت سیاسی جماعت اقتدار کے خواہشمند ضرور ہیں لیکن اقتدار ان منزل نہیں۔آج کے حالات دیکھ لگتا ہے کہ قدرت ان پر مہربان ہے اور انہیں بچا لیا گیا ہے۔کے جے ایف وفد کی قیادت صدر عرفان سدوزئی نے کی جبکہ شرکاء میں سینئر نائب صدر اقبال اعوان،سیکرٹری جنرل مقصود منتظر، سیکرٹری مالیات سردار عمران اعظم
سینئر جوائنٹ سیکرٹری سردار نثار تبسم
گورننگ باڈی کے ممبران
سردار طلحہ جاوید
اللہ داد صدیقی
راجہ ظہور عالم
احسن راجہ
اجہ خرم
لیاقت مغل
سردار ندیم اقبال
قاضی صغیر
فوزیہ علی موجود تھے۔





