سعودی عرب کی اہم آئل پائپ لائن بند، بحالی میں 5 ہفتے لگنے کا امکان

ریاض:سعودی عرب نے گزشتہ ہفتے ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد اپنی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو حفاظتی اقدام کے طور پر عارضی طور پر بند کردیا ہے، جبکہ حکام کے مطابق پائپ لائن کی مکمل بحالی میں تین سے پانچ ہفتے لگ سکتے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق معاملے سے باخبر دو سعودی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملوں سے پائپ لائن کے بعض حصوں اور ایک بڑے پمپنگ مرکز کو نقصان پہنچا ہے، جس کی مرمت میں کئی ہفتے درکار ہوں گے۔ذرائع کے مطابق مرمت کے دوران پائپ لائن کے کچھ حصوں سے محدود مقدار میں تیل کی ترسیل جاری رہنے کا امکان ہے، تاہم مکمل آپریشنل صلاحیت بحال ہونے میں تین سے پانچ ہفتے لگ سکتے ہیں۔تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی ساحلی علاقوں کو مغربی ساحل سے ملاتی ہے اور روزانہ تقریباً 70 لاکھ بیرل تیل منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے مملکت آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں تک تیل پہنچا سکتی ہے۔سعودی حکام نے گزشتہ ہفتے پائپ لائن پر ہونے والے ڈرون حملوں کا الزام ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیاؤں پر عائد کیا تھا۔ حملوں کے بعد سعودی عرب نے جمعرات کو حفاظتی بنیادوں پر پائپ لائن کی ترسیل روک دی۔پائپ لائن کی طویل بندش ایسے وقت میں سعودی عرب کے لیے بڑا چیلنج بن سکتی ہے جب آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث مملکت بحیرۂ احمر کے راستے تیل کی برآمدات جاری رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل پہلے ہی متاثر ہونے کے باعث سعودی پائپ لائن کی مرمت میں کئی ہفتے لگنے کی صورت میں عالمی سپلائی پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے