پاکستان، عمان کے درمیان تعاون کے نئے دور کا آغاز، اہم معاہدوں پر اتفاق

اسلام آباد:پاکستان اور عمان نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت، افرادی قوت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میڈیا سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا ہے۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بدھ کو اسلام آباد میں پاکستان-عمان مشترکہ وزارتی کمیشن (جے ایم سی) کے آٹھویں اجلاس کے کامیاب اختتام کے بعد عمانی وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت خوشگوار اور تعمیری ماحول میں ہوئی، جو دیرینہ دوستی، باہمی اعتماد اور برادرانہ تعلقات کی عکاس ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔اسحاق ڈار نے بتایا کہ دونوں ممالک پاکستان-عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس کے پروٹوکول کے ساتھ سفارتی، خصوصی، سروس اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے باہمی ویزا استثنیٰ کے معاہدے پر دستخط کریں گے۔اس کے علاوہ خبروں اور معلومات کے تبادلے، مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی، تاریخی دستاویزات، ریکارڈ اور آرکائیوز کے انتظام اور میڈیا تعاون سے متعلق معاہدے بھی کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ویزا استثنیٰ کا معاہدہ سرکاری سطح پر وفود کے تبادلوں کو آسان بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان روابط کو مزید فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں تجارت و سرمایہ کاری، زراعت، تیل و گیس اور لیبر و انسانی وسائل کی ترقی سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام اور انہیں فعال بنانے پر بھی پیش رفت ہوئی۔ یہ فورمز باقاعدہ رابطوں، بہتر ہم آہنگی اور کمیشن کے فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد میں معاون ثابت ہوں گے۔دونوں ممالک نے کاروباری برادریوں کے درمیان بڑھتے روابط کا خیرمقدم کرتے ہوئے خصوصی اقتصادی زونز اور فری زونز میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔اسحاق ڈار نے عمان میں مقیم پاکستانی برادری کی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے دونوں برادر ممالک کے درمیان ایک اہم پل قرار دیا۔دونوں جانب سے لیبر موبیلٹی، پیشہ ورانہ تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا تاکہ ہنرمند پاکستانی ماہرین اور کارکنوں کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا کیے جا سکیں۔خلیج کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے مزید عدم استحکام سے بچنے کے لیے تحمل، کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں محفوظ اور آزاد جہاز رانی یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ آبی گزرگاہیں علاقائی اور عالمی غذائی و توانائی سلامتی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں میں پاکستان کے تعمیری کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں کی پاکستان کی جانب سے شدید مذمت کی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور پانچ دیگر پاکستانی زخمی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ناقابل قبول، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔نائب وزیراعظم نے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اسلام آباد کے غیر متزلزل عزم کی بھی توثیق کی۔فلسطین کے حوالے سے اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام اور ان کے ناقابل تنسیخ حقوق کے لیے پاکستان کی اصولی اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔انہوں نے غیر قانونی بستیوں کی مسلسل توسیع اور القدس الشریف کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غزہ کے عوام تک بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فوری فراہمی پر زور دیا۔انہوں نے متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔اسحاق ڈار نے جموں و کشمیر کے تنازع کو ایک دیرینہ اور حل طلب بین الاقوامی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اس کے منصفانہ اور پرامن حل کا مطالبہ دہرایا۔دونوں وزرائے خارجہ نے افغانستان کی صورتحال اور سندھ طاس معاہدے سمیت اہم علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے اور اسلام آباد کے سلامتی سے متعلق تحفظات کو دور کرنا ضروری ہے۔سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت کا معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا فیصلہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی خطرناک کوشش ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات پاکستان کی آبی، غذائی اور توانائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور تقریباً 25 کروڑ آبادی پر سنگین اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔اسحاق ڈار نے عمانی وزیر خارجہ اور ان کے وفد کا تعمیری کردار اور مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کو کامیاب بنانے میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مشترکہ وزارتی کمیشن کے نویں اجلاس کا منتظر ہے، جو سلطنت عمان میں منعقد ہوگا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور عمان کے تعلقات مضبوط اور مستقبل پر مبنی ہیں اور دونوں ممالک وسیع تر تعاون، باہمی اعتماد اور مسلسل سفارتی روابط کے ذریعے زیادہ خوشحال مستقبل کی تعمیر کے لیے پرعزم ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے