مسجد اقصیٰ میں بن گویر کا داخلہ، سعودی عرب کی شدید مذمت
ریاض:سعودی عرب نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر کے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز اقدام اور کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ایتمار بن گویر آبادکاروں کے ہمراہ اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی سخت نگرانی میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے۔وزارت خارجہ نے فلسطینیوں اور ان کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے خلاف اسرائیلی حکام کے مبینہ اشتعال انگیز اور انتہا پسندانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بنتے اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔سعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے فلسطینیوں اور ان کے مقدس مقامات کے خلاف خلاف ورزیوں کے خاتمے کیلئے مؤثر اقدامات کرے۔بیان میں مسجد اقصیٰ کی قائم شدہ قانونی اور تاریخی حیثیت کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایتمار بن گویر اتوار کو یومِ کپور کے موقع پر سخت سکیورٹی میں مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران یہ ان کا مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دوسری مرتبہ داخلہ تھا، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر تلمودی عبادات بھی ادا کیں۔سعودی عرب نے متعدد مواقع پر فلسطینی عوام کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مقبوضہ یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مق