پی ٹی آئی ارکان کا انوکھا احتجاج، گدھا گاڑی پر سندھ اسمبلی پہنچ گئے
کراچی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سندھ اسمبلی میں ارکان نے پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف منفرد احتجاج کرتے ہوئے گدھا گاڑیوں پر سوار ہو کر صوبائی اسمبلی کا رخ کیا۔پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی سجاد علی کی قیادت میں دیگر ارکان نے اسمبلی کے قریب مختلف علاقوں سے گدھا گاڑیوں پر سفر کرتے ہوئے مرکزی دروازے تک پہنچ کر احتجاج کیا۔ ارکان نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور وفاقی حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سجاد علی نے کہا کہ احتجاج کا مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں سے عام شہریوں کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول اتنا مہنگا ہوچکا ہے کہ ارکان اسمبلی بھی اپنی گاڑیوں میں اسمبلی آنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ انہوں نے حکومت سے پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔پی ٹی آئی ارکان نے علامتی طور پر حکومت کے وزرا اور حکومتی ارکانِ اسمبلی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاجاً گدھا گاڑیوں پر اسمبلی پہنچیں۔رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے نتیجے میں تیل کی اہم سپلائی لائنز متاثر ہوئی ہیں، جس کے باعث گزشتہ دو ماہ کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کر رہی ہے۔جمعرات کو ہونے والی تازہ قیمتوں میں تبدیلی کے بعد پیٹرول کی قیمت 390 روپے 79 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 424 روپے 92 پیسے فی لیٹر مقرر ہے۔موجودہ قیمتوں میں حکومت کی جانب سے پیٹرول پر 114 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکسز اور ڈیوٹیز بھی شامل ہیں۔ دریں اثنا، پاکستان بار کونسل نے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے قیمتوں میں اضافے کو روکنے اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کیلئے عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کیلئے ریلیف اسکیم متعارف کرائی ہے۔ اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور دیگر دو اور تین پہیوں والی سواریوں کے صارفین کو ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول پر ریلیف دیا جائے گا، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ملک بھر میں اسکیم کے آغاز کے پہلے ہی روز اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جب متعدد پیٹرول پمپس نے ڈیجیٹل ایپ کے ذریعے رعایتی پیٹرول فراہم کرنے سے انکار کیا۔ پیٹرول پمپس انتظامیہ نے مطلوبہ نظام دستیاب نہ ہونے کو وجہ قرار دیا۔ وفاقی حکومت نے ایندھن کے بڑھتے بحران کے پیش نظر کفایت شعاری کے اقدامات بھی دوبارہ نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت مارکیٹیں رات 9 بجے بند کرنے اور سرکاری گاڑیوں کیلئے ایندھن کی فراہمی میں تین ماہ کیلئے 50 فیصد کمی شامل ہے۔