امریکا ایران کشیدگی ، ایرانی صدر کی نیویارک آمد، سفارتی سرگرمیاں بڑھنے کا امکان


ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی آئندہ ہفتے نیویارک آمد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی اہم ترین پیش رفت بن گئی ہے، کیونکہ ایرانی وفد امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران اجلاس میں شرکت کرے گا۔مسعود پزشکیان بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک روز قبل منگل کو عالمی رہنماؤں سے خطاب کریں گے۔ ایرانی صدر کی شرکت کو جاری جنگ اور اس کے خطے کی سلامتی سمیت عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات کے باعث خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔امریکا نے ایرانی قیادت کے بنیادی وفد کو جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی اجازت دے دی ہے، تاہم وفد پر سفری پابندیاں اور لگژری سمیت بعض دیگر اشیا کی خریداری پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔ ایرانی وفد گزشتہ سال کے مقابلے میں محدود تعداد پر مشتمل ہوگا۔ایرانی وفد کو جنرل اسمبلی میں شرکت کی اجازت دینے اور فلسطینی قیادت کے حوالے سے امریکی فیصلے میں فرق نے رواں سال کے اجلاس کو ایک اضافی سفارتی پہلو دے دیا ہے۔امریکا نے فلسطینی صدر محمود عباس کو مسلسل دوسرے سال جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت کیلئے ویزا دینے سے انکار کیا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انہیں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کی اجازت دے دی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی جانب سے اصلاحات سے متعلق امریکی وعدوں پر عمل نہ کرنے اور اس کی نظر میں امن کے امکانات کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں کے باعث پابندیاں برقرار رکھی گئی ہیں۔ فلسطینی حکام نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بلاجواز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے فلسطینی، امریکی تعلقات کی بہتری اور امن کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔اقوام متحدہ میں پہلے سے تسلیم شدہ فلسطینی سفارت کار فلسطین کی نمائندگی جاری رکھیں گے، جبکہ محمود عباس ویڈیو خطاب کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوں گے۔جنرل اسمبلی کا اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا کو امریکا ایران تنازع، یوکرین جنگ، اسرائیل فلسطین کشیدگی، سوڈان کی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلی سمیت متعدد بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر مہنگائی، اقتصادی دباؤ اور عوامی اخراجات سے متعلق مشکلات بھی عالمی رہنماؤں کی گفتگو کا حصہ بننے کا امکان ہے۔پزشکیان کی اسی اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ موجودگی بھی خصوصی توجہ کا مرکز ہوگی۔ جنگ کے علاقائی سلامتی، سمندری تجارت اور توانائی کی عالمی منڈیوں پر اثرات بھی اجلاس کے دوران اہم موضوعات میں شامل رہنے کا امکان ہے۔پاکستان کیلئے ایرانی صدر کی متوقع موجودگی وزیراعظم شہباز شریف کی جنرل اسمبلی میں شرکت کو مزید اہم بناتی ہے۔ اسلام آباد نے ایران سمیت تنازع کے خاتمے کیلئے سفارتی کوششوں میں شامل دیگر ممالک سے رابطے برقرار رکھے ہیں اور مذاکرات، تحمل اور سفارت کاری کے ذریعے تنازع کے حل پر زور دیا ہے۔پزشکیان اور عباس عراقچی کی نیویارک میں موجودگی پاکستان کیلئے جنرل اسمبلی کے موقع پر سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کا ایک اور موقع فراہم کر سکتی ہے۔توجہ صرف ایرانی صدر کے جنرل اسمبلی سے خطاب پر ہی نہیں بلکہ اجلاس کے موقع پر مختلف عالمی رہنماؤں سے ہونے والی ممکنہ ملاقاتوں اور سفارتی سرگرمیوں پر بھی مرکوز رہے گی۔جاری جنگ کے باعث علاقائی سلامتی، توانائی کی منڈیوں اور عالمی معیشت پر اثرات کے پیش نظر نیویارک میں ایرانی وفد کی موجودگی جنرل اسمبلی کے دوران اہم سفارتی موضوعات میں شامل رہنے کا امکان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے