آزاد کشمیر میں مبینہ اسلحہ نیٹ ورک پکڑا گیاطلال چوہدری کا دعویٰ

وزیرِ مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران آزاد جموں و کشمیر میں سرگرم ایک مبینہ اسلحہ سپلائی نیٹ ورک کا سراغ لگایا ہے، جس کے روابط کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) سے وابستہ بعض افراد اور افغانستان میں موجود مبینہ اسلحہ فراہم کرنے والوں تک پہنچتے ہیں۔اسلام آباد میں بدھ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے بتایا کہ تحقیقات کا آغاز آزاد کشمیر کے رہائشی ضیاء نامی شخص تک پہنچنے سے ہوا، جو ان کے مطابق گزشتہ 8 سے 10 سال سے غیر قانونی اسلحے کے کاروبار سے وابستہ تھا اور تقریباً دو برس سے کالعدم ایکشن کمیٹی سے وابستہ بعض افراد کو اسلحے کی کھیپیں فراہم کر رہا تھا۔وزیرِ مملکت کے مطابق ضیاء کو کشمیر موڑ کے قریب سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد کیے گئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا۔ حکام کے مطابق ضیاء کے موبائل فون سے حاصل معلومات اور رابطوں کی چھان بین کے ذریعے مبینہ نیٹ ورک کے دیگر کرداروں تک رسائی حاصل ہوئی۔طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ ضیاء کا رابطہ ماجد نامی شخص سے تھا، جسے انہوں نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے اہم رکن سردار امان کا قریبی ساتھی قرار دیا۔ پریس کانفرنس میں ضیاء اور ماجد کے درمیان مبینہ ٹیلی فونک گفتگو کی آڈیو بھی سنائی گئی، جس میں حکام کے مطابق اسلحے کی اقسام اور فراہمی سے متعلق بات چیت ہوئی۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ضیاء کے روابط افغانستان میں موجود زرشاد نامی شخص سے بھی تھے، جو مبینہ طور پر افغانستان سے پاکستان اسلحہ پہنچانے کا انتظام کرتا تھا۔ حکومتی بیان کے مطابق اسلحہ افغانستان سے خیبرپختونخوا کے علاقے باڑہ لایا جاتا، جہاں سے اسے آزاد جموں و کشمیر منتقل کیا جاتا تھا۔وزیرِ مملکت کے مطابق اکبر نامی ایک سرکاری ملازم بھی مبینہ طور پر اس نیٹ ورک کا حصہ تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اکبر اپنی سرکاری حیثیت اور ادارے کی آڑ استعمال کرتے ہوئے باڑہ سے آزاد کشمیر اسلحہ منتقل کرنے میں سہولت فراہم کرتا تھا۔پریس کانفرنس کے دوران طلال چوہدری نے متعدد مبینہ آڈیو ریکارڈنگز اور ویڈیوز بھی پیش کیں۔ آخر میں ضیاء سے منسوب ایک ویڈیو بیان دکھایا گیا، جس میں مبینہ طور پر اسلحہ حاصل کرنے والے افراد، زرشاد اور اکبر سے روابط اور آزاد کشمیر میں پیش آنے والے بعض واقعات سے متعلق معلومات بیان کی گئیں۔تاہم پریس کانفرنس میں اس ویڈیو بیان کے ریکارڈ کیے جانے کے حالات کی آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔طلال چوہدری نے کہا کہ مبینہ نیٹ ورک صرف اسلحے تک محدود نہیں بلکہ اس کے روابط گاڑیوں، پٹرولیم مصنوعات اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے جرائم سے بھی تھے۔ ان کے مطابق دہشت گردی اور منظم جرائم کے اس گٹھ جوڑ کے خلاف ملک بھر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری ہیں اور روزانہ تقریباً 200 IBOs کیے جا رہے ہیں۔وزیرِ مملکت نے افغانستان کی سرزمین کے استعمال سے متعلق بھی الزامات عائد کرتے ہوئے افغانستان کو ’’سپر پراکسی‘‘ قرار دیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی اور جرائم کے نیٹ ورکس کو افغانستان میں موجود عناصر سے سہولت اور اسلحہ مل رہا ہے۔آزاد کشمیر کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے طلال چوہدری نے کہا کہ اسے کالعدم قرار دینے کا فیصلہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کمیٹی سے منسلک عناصر نے آزاد کشمیر کے انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش بھی کی۔طلال چوہدری کے مطابق مبینہ نیٹ ورک کے مالی معاملات، اسلحے کی خریداری، ترسیل اور مختلف افراد کے درمیان رابطوں کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مزید شواہد بھی سامنے لائے جا سکتے ہیں۔واضح رہے کہ پریس کانفرنس میں اسلحہ نیٹ ورک، افراد کے باہمی روابط اور کالعدم ایکشن کمیٹی سے تعلق سے متعلق الزامات وزارتِ داخلہ اور وزیرِ مملکت کی جانب سے پیش کیے گئے دعوے اور مواد ہیں، جن کی آزادانہ عدالتی توثیق اس مرحلے پر سامنے نہیں آئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے