بلاول کا پی ٹی آئی پر ’سیاسی خودکش حملے‘ کا الزام، مذاکرات کی پیشکش برقرار
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی صورتحال کا ذمہ دار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت کو قرار دیتے ہوئے اسے ’’سیاسی خودکش حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج آئینی اقدامات کے تحت نافذ کیے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے پر بحث کے لیے طلب کیا گیا تھا۔خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بحث کے لیے سوالوں کا وقفہ معطل کردیا گیا۔ وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایمرجنسی کے اعلان سے متعلق تحریک پیش کی جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بحث کا آغاز کیا۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے آئین کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی منظوری دی۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن سے رابطے اور مذاکرات کی ہر ممکن کوشش کی اور فیصلے سے قبل بات چیت بھی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی مجبوری کے تحت نافذ کی گئی اور اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کا ارادہ نہیں۔بلاول بھٹو نے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی حکومت سے اپوزیشن کی جانب ہاتھ بڑھانے اور مذاکرات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ حکومت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ایسے سیاسی حالات پیدا کیے جائیں جن میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی ضرورت باقی نہ رہے۔ بلاول نے کہا کہ اگر اپوزیشن ایسے حالات پیدا کرنے میں مدد کرے تو وہ ذاتی طور پر وزیراعظم سے ایمرجنسی ختم کرنے کی درخواست کریں گے۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے فیصلے کی حمایت کرتی ہے۔قومی اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا دہشت گردی سے نمٹنے کا طریقہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا تھا۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایمرجنسی ایک منتخب حکومت کو ہٹانے کے لیے نافذ کی گئی، تاہم ایمرجنسی کی تجویز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ڈھائی گھنٹے کی بحث کے بعد سامنے آئی۔وزیر قانون نے الزام عائد کیا کہ ایک سیاسی جماعت کا نظریہ بھی دہشت گردی کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہوا۔ انہوں نے موجودہ غیر فعال وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسلح افواج اور شہریوں کی قربانیوں کو نظر انداز کیا۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جمہوریت کو کمزور کیا جا رہا ہے اور دہشت گردی کو جواز بنا کر صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’’آپ نے جمہوریت پر حملہ کیا ہے۔‘‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے دہشت گردی کو بہانے کے طور پر استعمال کیا انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے پورے ملک کو مفلوج کردیا ہے اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے دہشت گردی کو جواز بنایا گیا۔ گزشتہ ہفتے صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ صدر سیکریٹریٹ کے میڈیا ونگ کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کی سفارش، وزیراعظم کے باضابطہ مشورے اور متعلقہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے امن و امان کی صورتحال سے متعلق رپورٹس کی بنیاد پر کیا گیا۔