گرفتاریوں کا خوف، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لیے دھرنا ختم کرنا مشکل، حکومت بھی اپنے مؤقف پر قائم
راجہ قیصر ایوب
اسلام آباد:آزاد جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران دھرنے کے خاتمے اور ممکنہ گرفتاریوں کا معاملہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ایکشن کمیٹی کی قیادت کو خدشہ ہے کہ دھرنا ختم کرتے ہی اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف درج مقدمات میں گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حکومت اور بااختیار ادارے فی الحال ایکشن کمیٹی کو کسی قسم کی رعایت دینے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ حکومتی حلقوں سے منسوب مؤقف کے مطابق جب تک دھرنا ختم نہیں کیا جاتا، ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کا کوئی نیا سلسلہ شروع نہیں ہوگا۔ دوسری جانب مقدمات کے حوالے سے متعلقہ حکام کا مؤقف بتایا جا رہا ہے کہ جن افراد کے خلاف مقدمات درج ہیں، وہ ریلیف حاصل کرنے کے لیے متعلقہ عدالتوں سے رجوع کریں۔ مقدمات کے خاتمے یا گرفتاریوں سے تحفظ کے لیے کسی خصوصی ضمانت کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ ذرائع کے مطابق ایکشن کمیٹی کی قیادت کے لیے سب سے بڑی پریشانی یہی ہے کہ دھرنا ختم کرنے کے بعد ان کی گرفتاریوں کو کون روکے گا اور اس بات کی ضمانت کون فراہم کرے گا کہ پولیس یا دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے۔ اس صورتحال میں دھرنے کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف حکومت دھرنے کے خاتمے کو مذاکرات کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ایکشن کمیٹی کو خدشہ ہے کہ دھرنا ختم ہونے کے بعد اس کی قیادت قانونی کارروائی کی زد میں آ سکتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہے تو موجودہ تعطل مزید طول پکڑ سکتا ہے۔ یوں ایکشن کمیٹی کے لیے دھرنا ختم کرنا ایک مشکل فیصلہ بنتا جا رہا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے گرفتاریوں سے تحفظ کی کوئی واضح یقین دہانی سامنے نہ آنے کے باعث صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔