موٹروے بندش غیر آئینی قرار دینے کی استدعا، وکیل کااسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع
اسلام آباد: اسلام آباد پشاور موٹروے (ایم ون) کی بندش کے خلاف سپریم کورٹ کے وکیل میاں شفقت جان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا اور بند راستے وکلاء، سائلین اور ایمرجنسی ٹریفک کیلئے کھولنے کی استدعا کردی۔ درخواست گزار کے مطابق وہ 24 ستمبر کو پشاور ہائیکورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت میں پیش ہونے کیلئے اسلام آباد سے روانہ ہوئے اور صبح تقریباً 7 بجے اسلام آباد ٹول پلازہ سے ایم ون میں داخل ہوئے، تاہم اٹک پل کے قریب موٹروے بند ملی۔ وکیل کا مؤقف ہے کہ موقع پر تعینات حکام سے بندش کا کوئی تحریری حکم یا نوٹیفکیشن طلب کیا گیا، تاہم انہیں فراہم نہیں کیا گیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ تحریری حکم، نوٹیفکیشن یا واضح وجوہات کے بغیر عوامی شاہراہوں کی بندش شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں وفاقی حکومت، وزارت داخلہ و اطلاعات، نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس، اسلام آباد پولیس، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، اسلام آباد انتظامیہ اور پنجاب حکومت سمیت متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو نقل و حرکت اور عدالتوں تک رسائی سمیت آئینی حقوق حاصل ہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ بغیر نوٹیفکیشن یا تحریری حکم کے سڑکوں اور شاہراہوں کی بندش کو غیر قانونی و غیر آئینی قرار دیا جائے اور وکلاء، سائلین، گواہان، مریضوں، جنازوں اور دیگر ہنگامی خدمات کیلئے راستے کھولنے کی ہدایات جاری کی جائیں۔ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے مطابق ایم ون اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک دونوں اطراف ٹریفک کیلئے بند ہے، جبکہ ایم14 ہکلہ سے کندل اور جی ٹی روڈ اٹک خورد کے مقام پر بند ہے۔ یہ اقدامات پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کے اعلان کے تناظر میں کیے گئے تھے، تاہم پارٹی کی جانب سے احتجاج مؤخر کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب پنجاب میں 13 روز کیلئے اجتماعات پر پابندی اور اسلام آباد میں بھی دفعہ 144 نافذ ہے، جبکہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد اور پنجاب کے بعض اضلاع میں رینجرز تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔