جمہوریت، عالمی قانون اور امن کے فروغ کیلئے پارلیمانی تعاون ناگزیر ہے، اسپیکر قومی اسمبلی
کیپ ٹاؤن: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے دولتِ مشترکے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ جمہوریت کے استحکام، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور عالمی امن و استحکام کے فروغ کے لیے زیادہ مؤثر اور فعال کردار ادا کریں۔کیپ ٹاؤن میں 69ویں دولتِ مشترکہممالک کی کانفرنس کے جنرل ڈیبیٹ سے خطاب کرتے ہوئے سردار ایاز صادق نے کہا کہ جمہوری اداروں کو عوام کا اعتماد برقرار رکھنے اور موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے شفاف، جوابدہ، جامع اور مؤثر ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے جمہوری سفر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کا انعقاد ایک اہم موقع پر ہو رہا ہے، جب 1976 کی سوویٹو بغاوت کو 50 سال، جنوبی افریقہ کے آئین کی منظوری کو 30 سال مکمل ہو رہے ہیں جبکہ 15 ستمبر کو عالمی یومِ جمہوریت بھی منایا گیا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ یہ مواقع اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ جمہوریت قربانیوں سے تشکیل پاتی، آئینی اداروں سے مضبوط ہوتی اور شہریوں، بالخصوص نوجوانوں کی بامعنی شرکت سے مستحکم رہتی ہے۔سردار ایاز صادق نے جنوبی افریقہ کی پارلیمان اور عوام کی جمہوری تبدیلی کو سراہتے ہوئے دولتِ مشترکہ کی پارلیمانی برادری کی میزبانی پر بھی ملک کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ دولتِ مشترکہ جغرافیائی قربت کے بجائے مشترکہ اقدار سے جڑے ممالک کا منفرد خاندان ہے۔ دولتِ مشترکہ کا منشور جمہوریت، آئینی حکمرانی، قانون کی بالادستی، انسانی حقوق، پائیدار ترقی، امن اور بین الاقوامی تعاون کے لیے مشترکہ فریم ورک فراہم کرتا ہے۔اسپیکر نے کہا کہ دولتِ مشترکہ کی نئی تزویراتی سمت جمہوریت کے فروغ، اداروں کے استحکام، پائیدار ترقی، نوجوانوں کو بااختیار بنانے، ٹیکنالوجی سے استفادے اور امن کے فروغ میں فعال پارلیمانی قیادت کا تقاضا کرتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ جمہوریت کو محض انتخابات کے انعقاد تک محدود نہیں کیا جا سکتا، جمہوری استحکام کا انحصار سیاسی تقسیم، مسلح تنازعات، معاشی بحرانوں اور ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے چیلنجز کے باوجود اداروں کے شفاف، جوابدہ، جامع اور مؤثر رہنے پر ہے۔بین الاقوامی قانون کے حوالے سے سردار ایاز صادق نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری، ریاستوں کی خودمختاری کا احترام، تنازعات کا پُرامن حل اور شہریوں کا تحفظ بنیادی اور ناقابلِ سمجھوتہ اصول ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تنازعات کے حل کے لیے مسلسل مکالمے، سفارت کاری اور پُرامن رابطے کو ترجیح دیتا آیا ہے۔ پاکستان نے علاقائی کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی بھی حمایت کی اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تعمیری مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی ہے۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ ’’تصادم کے بجائے سفارت کاری علاقائی استحکام کی جانب پائیدار راستہ فراہم کرتی اور بین الاقوامی قوانین پر مبنی نظام کو مضبوط بناتی ہے۔‘‘انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان عالمی امن، معاشی استحکام اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے لیے علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ پُرامن روابط کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔68ویں دولتِ مشترکہ پارلیمانی کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے اسپیکر نے بتایا کہ سی پی اے بلوچستان برانچ نے امن کے فروغ کے لیے ایک, dedicated machanism قائم کرنے کی تجویز دی تھی، جس پر دولتِ مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن (CPA) نے غور کیا اور انسانی حقوق و امن سے متعلق CPA کمیٹی کی بحالی کی جانب پیش رفت ہوئی۔انہوں نے اس پیش رفت کو دولتِ مشترکہ میں امن اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے پارلیمانی کوششوں کو مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان دولتِ مشترکہ کے بانی ارکان میں شامل اور دولتِ مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن کا فعال رکن ہے۔ پاکستان جمہوری اداروں کے استحکام، پارلیمانی تعاون، بنیادی حقوق کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان قانون سازی، شفافیت اور عوامی شرکت کے فروغ کے لیے اصلاحات پر کام جاری رکھے ہوئے ہے اور بین الاقوامی پارلیمانی مکالمے میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ مسلح تنازعات، موسمیاتی تبدیلی، غذائی عدم تحفظ، سائبر خطرات اور جمہوری اداروں کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کوئی ملک تنہا نہیں کرسکتا۔ ان مسائل کے حل کے لیے کثیرالجہتی تعاون، ریاستوں کے درمیان اعتماد اور مؤثر پارلیمانی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ دولتِ مشترکہ کے متنوع ارکان مشترکہ اقدار اور جمہوریت و ترقی کے عزم کے باعث ایک دوسرے کے تجربات سے استفادے کے لیے اہم پلیٹ فارم رکھتے ہیں۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ جمہوری اداروں کو مضبوط بنا کر، بین الاقوامی قانون کی پاسداری یقینی بنا کر اور پارلیمانی سفارت کاری کو فروغ دے کر دولتِ مشترکہ موجودہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کی اجتماعی صلاحیت کو مزید مؤثر بنا سکتی ہے۔