شوکت نواز میر گرفتار ہوئے یا نہیں؟ حکومت کے انکار نے معاملہ مزید الجھا دیا


مظفرآباد:آزاد کشمیر ہائی کورٹ میں شوکت نواز میر کے مقدمے کی سماعت کے دوران ایس ایس پی مظفرآباد اور ایڈووکیٹ جنرل آزاد کشمیر نے عدالت کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ شوکت نواز میر ان کی تحویل میں نہیں، جبکہ ان کے خلاف 17 مقدمات درج ہیں۔ عدالت نے کیس کو 23 ستمبر کو بحث کے لیے مقرر کرتے ہوئے شوکت نواز میر کی بہن یاسمین میر کو ہدایت کی ہے کہ مقررہ تاریخ پر اپنے وکیل کو عدالت میں پیش کریں۔عدالتی کارروائی کے دوران سرکاری حکام کے مؤقف کے بعد شوکت نواز میر کی موجودہ حیثیت اور مبینہ گرفتاری سے متعلق معاملہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اہل خانہ اور بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ شوکت نواز میر کو پولیس اور رینجرز کی موجودگی میں حراست میں لیا گیا تھا، تاہم عدالت میں سرکاری سطح پر ان کی تحویل سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا۔اس صورت حال کے باعث یہ سوال سامنے آ رہا ہے کہ اگر شوکت نواز میر سرکاری تحویل میں نہیں تو اس وقت ان کی موجودگی اور حیثیت کیا ہے، جبکہ ان کے خلاف درج 17 مقدمات میں قانونی کارروائی کس طریقہ کار کے تحت آگے بڑھے گی۔23 ستمبر کو ہونے والی سماعت کو اس معاملے میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں فریقین کے وکلاء کے دلائل کے بعد کیس کی قانونی سمت مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کے خلاف الزامات کی نوعیت کچھ بھی ہو، گرفتاری، حراست، مقدمات اور عدالت کے سامنے پیشی کے تمام مراحل قانون کے مطابق اور شفاف ہونے چاہئیں، تاکہ متضاد دعوؤں اور قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو سکے۔آزاد کشمیر میں حالیہ عرصے کے دوران ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد، احتجاجی سرگرمیوں، گرفتاریوں اور شہری آزادیوں کے معاملات پر بحث جاری ہے۔ مختلف سیاسی، سماجی اور عوامی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اختلافِ رائے اور بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کیا جائے، جبکہ قانون شکنی، تشدد یا جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔عوامی حلقوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر کسی شہری کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں تو اسے قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کرکے مقدمات کا فیصلہ کیا جائے، جبکہ کسی شخص کو حراست میں لیے جانے کی صورت میں متعلقہ اداروں پر اس کی گرفتاری اور موجودگی واضح کرنا بھی لازم ہے۔شہریوں کے مطابق ریاستی معاملات میں طاقت کے استعمال، جبری گرفتاریوں یا مبینہ ناروا سلوک سے متعلق شکایات برقرار رہنے کی صورت میں عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کا فقدان مزید بڑھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خصوصاً نوجوانوں میں ریاستی معاملات اور سیاسی نظام سے متعلق سوالات کا جواب آئینی، قانونی اور سیاسی مکالمے کے ذریعے تلاش کیا جانا ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے