ایلون مسک پر سابق اہلیہ کے سنگین الزامات، دستاویزی فلم نے نئی بحث چھیڑ دی

دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلون مسک ایک نئی دستاویزی فلم میں اپنی سابق اہلیہ جسٹن ولسن کی جانب سے عائد کیے گئے سنگین الزامات کے باعث ایک بار پھر تنازع کی زد میں آگئے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ دعوے معروف فلم ساز ایلکس گبنی کی ہدایت کاری میں بننے والی ایلون مسک کی زندگی پر مبنی دستاویزی فلم ’مسک‘ میں سامنے آئے ہیں۔فلم میں جسٹن ولسن نے اپنی سابق ازدواجی زندگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایلون مسک ان کے ساتھ تحقیر آمیز رویہ اختیار کرتے تھے اور انہیں مسلسل غیر اہم اور کمتر محسوس کرواتے تھے۔ ان کے مطابق مسک اکثر ان کی خامیوں کی نشاندہی کرتے رہتے تھے۔جسٹن ولسن نے سال 2000ء میں اپنی شادی کا ایک واقعہ بھی بیان کیا۔ ان کے مطابق شادی کی پہلی ڈانس پرفارمنس کے دوران ایلون مسک نے ان کے کان میں کہا تھا کہ اس رشتے میں اصل اختیار اور فیصلہ سازی انہی کے پاس ہے۔سابق اہلیہ نے اپنی ٹرانس جینڈر بیٹی ویوین کے ساتھ ایلون مسک کے رویے پر بھی سنگین الزام عائد کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ویوین کی جانب سے اپنے ٹرانس جینڈر ہونے کا اعلان کیے جانے کے بعد مسک نے اس کی ہیلتھ انشورنس بھی ختم کردی۔جسٹن ولسن کا مزید کہنا تھا کہ ایلون مسک نے بعد میں بیٹی کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش نہیں کی۔انہوں نے ایلون مسک کے خواتین سے متعلق مبینہ خیالات پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ خواتین اور بچوں کی ماؤں کو مناسب احترام نہیں دیتے اور خواتین کو محض بچے پیدا کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ایلون مسک اور جسٹن ولسن کی شادی 2000ء میں ہوئی تھی۔ دونوں کے ہاں 6 بچے پیدا ہوئے، جبکہ 2008ء میں ان کی طلاق ہوگئی۔دوسری جانب ایلون مسک خود اس دستاویزی فلم کا حصہ نہیں بنے۔ انہوں نے فلم کو اپنے خلاف ایک ’ہٹ پیس‘ قرار دیا ہے، جبکہ ان کے وکلا نے فلم میں کیے گئے دعووں پر قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے