گلگت بلتستان میں 50 ہزار میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جبکہ بونجی ڈیم سے 7 ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کی جاسکتی ہے۔ وزیراعلیٰ

گلگت بلتستان میں 50 ہزار میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے،امجد حسین ایڈووکیٹ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے 54 میگاواٹ عطاآباد پاور پروجیکٹ پر خصوصی توجہ دینے اور منصوبے پر جلد کام شروع کرنے کی ہدایت کردی۔محکمہ اطلاعات گلگت بلتستان کے جاری اعلامیے کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے ارکان کے دورہ گلگت بلتستان کے موقع پر نسپاک کی جانب سے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے صوبے میں پن بجلی کے شعبے میں موجود مواقع اور منصوبوں کی پیش رفت پر گفتگو کی۔امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم ملک کی ترقی اور خوش حالی کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور صوبائی حکومت کی خواہش ہے کہ منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل ہو۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس سلسلے میں صوبائی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔وزیراعلیٰ کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم کے علاوہ بونجی ڈیم سے 7 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پن بجلی کے شعبے پر توجہ دے کر ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے اور خوش حالی کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت میگاواٹ کے حامل منصوبوں کی تعمیر کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔ تاہم ہنزل 20 میگاواٹ پاور پروجیکٹ اور 16 میگاواٹ نلتر پاور پروجیکٹ جیسے اہم منصوبے مقررہ مدت میں مکمل نہ ہونے کے باعث عوام کو بجلی کی سہولت میسر نہیں آسکی۔امجد حسین ایڈووکیٹ نے نسپاک کے اعلیٰ افسران کو 54 میگاواٹ عطاآباد پاور پروجیکٹ پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اہم منصوبے پر جلد کام شروع کیا جائے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ چلاس ایئرپورٹ کو فعال بنانے کے لیے کام جاری ہے اور حکومت کی ترجیح ہے کہ اسے آئندہ 6 ماہ میں مکمل طور پر فعال کردیا جائے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان جغرافیائی، دفاعی اور سیاحتی اعتبار سے منفرد اہمیت رکھتا ہے، اس لیے عوام کے ساتھ ساتھ مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کو جدید روڈ انفرااسٹرکچر اور بجلی کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔اس موقع پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ نئے تجربات کے بجائے گلگت بلتستان میں پہلے سے موجود ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی تعمیر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی وفاقی حکومت سے بھی سفارش کرے گی کہ گلگت بلتستان میں پن بجلی کے منصوبوں کی تعمیر کو ترجیح دی جائے، تاکہ آئی پی پیز کے بجائے سستی بجلی پیدا کی جاسکے۔ ان کے مطابق ملکی ضروریات پوری کرنے کے بعد اضافی بجلی دیگر ممالک کو فروخت کرکے زرمبادلہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔اجلاس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے رکن سینیٹر مولانا عطا الرحمن بھی موجود تھے، جبکہ سینیٹر عامر ولی الدین اور سینیٹر عبدالقادر نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے