بھارت ،چلتی بس میں نوعمر لڑکی کے ساتھ زیادتی ِ،ڈرائیور اور بس کنڈکٹر گرفتار
نئی دہلی: بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر گریٹر نوئیڈا میں 16 سالہ لڑکی کو چلتی بس میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے نے دسمبر 2012 کے نربھیا کیس کی یاد تازہ کردی، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بس ڈرائیور اور کنڈیکٹر کو گرفتار کرلیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق واقعہ 4 اگست کو پیش آیا۔ ضلع مین پوری سے تعلق رکھنے والی نوعمر لڑکی نوئیڈا میں اپنے کزن کے گھر جانے کے لیے نکلی تھی۔ پری چوک پر بس سے اترنے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچی اور مزید تقریباً 25 کلومیٹر سفر باقی ہے۔پولیس کے مطابق اسی دوران رات کے وقت شدید بارش اور اندھیرے میں ایک بس اس کے قریب آکر رکی۔ بس میں کوئی مسافر موجود نہیں تھا اور یہ طویل فاصلے کی سلیپر بس تھی، جس کی نشستوں اور برتھوں کے درمیان پردے لگے ہوئے تھے۔لڑکی کے مطابق بس کے کنڈیکٹر نے اسے بتایا کہ بس نوئیڈا سیکٹر 63 کی جانب جارہی ہے، جس پر وہ سوار ہوگئی۔ تاہم تحقیقات میں سامنے آیا کہ بس دراصل گریٹر نوئیڈا کے سورج پور میں واقع ورکشاپ سے واپس آرہی تھی۔پولیس کو دی گئی شکایت میں متاثرہ لڑکی نے الزام عائد کیا کہ بس چلنے کے کچھ دیر بعد کنڈیکٹر نے اس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا اور اسے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔ لڑکی کے مطابق بعد ازاں ڈرائیور نے بھی مبینہ زیادتی کی، جبکہ دونوں افراد نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔متاثرہ لڑکی کے مطابق ملزمان نے اسے مبینہ زیادتی کے بعد شدید زخمی حالت میں دہلی کے کشمیری گیٹ کے قریب رنگ روڈ پر پھینک دیا اور فرار ہوگئے۔پولیس نے بس کے ممکنہ روٹ پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی مدد سے ملزمان تک رسائی حاصل کی۔ کارروائی کے دوران 39 سالہ بس ڈرائیور کلدیپ اور 26 سالہ کنڈیکٹر سندیپ کو گرفتار کرلیا گیا، جبکہ مبینہ جرم میں استعمال ہونے والی سلیپر بس بھی قبضے میں لے لی گئیفرانزک ماہرین نے بس کا معائنہ کیا اور پولیس کے مطابق اندر سے لڑکی کے بالوں کے کچھ ریشے بھی ملے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم نے بس کے پورے روٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی ہے، جس کی مدد سے واقعے سے قبل اور بعد میں بس کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔واقعے نے بھارت میں دسمبر 2012 کے نربھیا کیس کی یاد تازہ کردی ہے، جس میں ایک نوجوان لڑکی کو چلتی بس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد بھارت میں خواتین کے تحفظ اور جنسی جرائم سے متعلق قوانین پر ملک گیر بحث اور احتجاج ہوا تھا۔موجودہ واقعے کے بعد بھی بھارت میں خواتین کے تحفظ اور جنسی جرائم کی روک تھام سے متعلق سوالات ایک بار پھر زیر بحث آگئے ہیں۔ پولیس واقعے کے محرکات اور دیگر پہلوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے۔