پاکستان کے مؤقف کی بڑی کامیابی، بھارت کو ہائیڈرو منصوبوں پر اہم پابندی کا سامنا
اسلام آباد:عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ معطلی سے متعلق بھارتی اقدام مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت اس کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند ہے۔نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں اقوام متحدہ کے منشور کے تحت قائم عالمی مستقل ثالثی عدالت نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے اور راتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے سے متعلق عبوری اقدامات کے بارے میں حکم جاری کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ بھارت کی جانب سے پیش کی گئی کوئی بھی بنیاد سندھ طاس معاہدے کی معطلی یا خاتمے کا جواز فراہم نہیں کرتی۔ بھارت کو مغربی دریاؤں پر اپنے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق معاہدے کی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔پاکستانی حکومت نے 4 مارچ 2026 کو بھارتی اقدامات کے خلاف عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ پاکستان نے درخواست کی تھی کہ بھارت کے رن آف دی ریور ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے بعض اجزا کے ڈیزائن کا جائزہ لیا جائے، جن میں کشن گنگا اور راتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے بھی شامل ہیں۔دونوں منصوبے عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ غیر جانب دار ماہر کے سامنے بھی زیرِ سماعت ہیں۔عدالت نے راتلے ڈیم سے متعلق عبوری حکم میں بھارت کو ڈیم کی دیوار اور پانی کے انٹیک ڈھانچے کو مخصوص سطحوں سے اوپر تعمیر کرنے سے روک دیا ہے۔ ساتھ ہی بھارت کو نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے 90 روز بعد تک راتلے ڈیم کی تعمیر پر کام روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔ثالثی عدالت نے راتلے منصوبے کے تعمیراتی شیڈول سے متعلق رپورٹنگ کی شرط بھی عائد کی، تاہم پاکستان کی جانب سے طلب کیے گئے دو دیگر اقدامات کی درخواستیں مسترد کردی گئیں۔