مالیاتی ٹیکنالوجی میں بہتری آئی، آگہی کے بغیر خطرات کا اندیشہ بھی ہے، گورنر اسٹیٹ بینک
کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ مالیاتی ٹیکنالوجی میں بہتری آئی ہے، تاہم آگہی کے بغیر یہ خطرات بھی پیدا کر سکتی ہے۔آئی سی ایم اے فیوچر فنانس سمٹ و کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ انسانی تہذیب کے ارتقا میں ٹیکنالوجی بنیادی محرک رہی ہے ۔ مالیاتی شعبے میں جدت بھی اسی کی مرہونِ منت ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرانسفارمر ٹیکنالوجی نے مصنوعی ذہانت کو فروغ دیا ہے، جس کی معلومات اکٹھی کرنے کی رفتار انتہائی تیز ہے، تاہم اس کے بنیادی سافٹ ویئر اب بھی انسان ہی تیار کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے کئی غیر دانستہ نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔جمیل احمد کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے ابتدائی مراحل میں ہی ٹیکنالوجی کو اختیار کرنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نئے ادائیگیوں کے نظام میں جدت کے باعث ریٹیل کی نصف سے زائد ٹرانزیکشنز اب ڈیجیٹل ہو چکی ہیں۔ مالی سال 2025-26 کے دوران 30 ارب ریٹیل ٹرانزیکشنز ہوئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 77 فیصد زیادہ ہیںانہوں نے کہا کہ ملک میں 20 لاکھ سے زائد تاجر کیو آر پیمنٹ سسٹم استعمال کر رہے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران راست پلیٹ فارم پر 3.6 ملین ٹرانزیکشنز ہوئیں، جن کی مجموعی مالیت 1.7 کھرب روپے رہی۔ جمیل احمد نے کہا کہ آج بھی متعدد خواتین اور چھوٹے کاروباروں کو سرمایہ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ جدت ترقی کا ذریعہ بنتی ہے، تاہم مناسب آگہی کے بغیر اس سے خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں خواتین کی مالیاتی شمولیت 4 فیصد سے بڑھ کر 52 فیصد ہو چکی ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو دیے جانے والے قرضے 46 فیصد اضافے کے بعد 850 ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں زرعی قرضوں کا حجم 2.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔انہوں نے کہا کہ ایک ابھرتی ہوئی معیشت کو صنعتوں کی مالی معاونت کے لیے صکوک اور کارپوریٹ بانڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔ گرین صکوک کے ذریعے بھی بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے آئی سی ایم اے پر زور دیا کہ وہ اپنے نصاب اور استعداد کار میں مزید بہتری لائے، خصوصاً ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے۔