وزیراعظم کا سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کیلئے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ

اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ (MJDA) کے پہلے سیکریٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود سے ملاقات میں سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے شہری اور تیل کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری ہیں، جن میں ایک درجن سے زائد افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں۔ ان حملوں نے خطے میں جاری کشیدگی اور وسیع تر امریکی، ایرانی تنازع کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں اہم تنصیبات، بشمول ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، دفاع اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ مکہ امن معاہدہ خطے میں امن، اتحاد اور استحکام کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ہے۔وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے سیکریٹری جنرل کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود نے وزیراعظم کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت دفاعی اور تزویراتی تعاون کو فروغ دینے کی حکمت عملی پر بریفنگ دی۔ ایک روز قبل لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی تھی۔ صدر نے اس اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق دفاعی تعاون کے ذریعے علاقائی امن و استحکام کو مزید مضبوط کرے گا۔ 23 ستمبر کو حکومت نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا تھا۔ یہ تقرری پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان معاہدے پر دستخط کے بعد پہلا بڑا ادارہ جاتی قدم قرار دی گئی، جس کے تحت پاکستان کو ابتدائی تین سالہ مدت کے دوران نئے دفاعی اتحاد کے پہلے سیکریٹریٹ کے قیام اور قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ فیصلہ 31 اگست کو استنبول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں کیا گیا تھا، جس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری سربراہان نے شرکت کی تھی۔استنبول میں طے پانے والے انتظام کے تحت سیکریٹری جنرل اتحاد کے جنرل سیکریٹریٹ کی سربراہی کریں گے، جس کا مرکز سعودی دارالحکومت میں ہوگا۔ سیکریٹریٹ معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی، تینوں ممالک کی افواج کے درمیان مشترکہ سرگرمیوں میں رابطہ کاری اور دفاعی صنعتی تعاون کے فروغ میں معاونت کرے گا۔ پاکستان کے لیے یہ ذمہ داری نئے دفاعی انتظام کے عملی ڈھانچے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے، کیونکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مکہ میں کیے گئے سیاسی عزم کو باقاعدہ دفاعی تعاون کے منظم طریقہ کار میں تبدیل کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے