ٹرمپ کی شی جن پنگ کو امریکی ہتھیار فروخت کرنے کی پیشکش کا انکشاف
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے ایک موقع پر پوچھا تھا کہ کیا چین امریکی ہتھیار خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ چین میں امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ سے کہا تھا کہ امریکا دنیا بھر کے دیگر ممالک کو ہتھیار فروخت کرتا ہے اور پوچھا کہ کیا چین بھی کچھ ہتھیار خریدنا چاہے گا۔ تاہم پرڈیو نے یہ نہیں بتایا کہ چینی صدر نے اس سوال کا کیا جواب دیا۔ دوسری جانب چین نے شی جن پنگ کے دورہ امریکا کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ عالمی امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے۔ڈیوڈ پرڈیو نے یہ بیان امریکا کی جانب سے تائیوان کو مسلسل ہتھیاروں کی فروخت کا دفاع کرتے ہوئے دیا۔ انہوں نے کہا کہ تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور واشنگٹن ’ون چائنا‘ پالیسی، تائیوان ریلیشنز ایکٹ، تین امریکی چینی مشترکہ اعلامیوں اور سکس اسورنسز کے تحت اپنی پالیسی پر قائم ہے۔ تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کو بتایا کہ امریکی قانون چین کو ہتھیاروں کی فروخت کی اجازت نہیں دیتا اور واشنگٹن کا بیجنگ کو ہتھیار فروخت کرنے کا نہ کوئی منصوبہ ہے اور نہ پیشکش۔امریکا ماضی میں چین کو فوجی سازوسامان فراہم کرچکا ہے۔ 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف امریکا اور چین کے قریبی اسٹریٹجک تعاون کے دوران واشنگٹن نے بیجنگ کو فوجی سازوسامان، جن میں اے این/ٹی پی کیو-37 کاؤنٹر آرٹلری ریڈار اور مارک-46 ٹارپیڈوز شامل تھے، فراہم کیے تھے۔ امریکی حکومت کے مطابق چین کے ساتھ سرکاری سطح پر اسلحے کی فروخت بعد ازاں روک دی گئی اور 1990 کے بعد کوئی نیا فارن ملٹری سیلز معاہدہ نہیں ہوا۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور جزیرے کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت کی مسلسل مخالفت کرتا ہے۔