ہیکرز نے ایف بی آئی ملازمین کی حساس معلومات چوری کر لی
واشنگٹن: ہیکنگ گروپ شائنی ہنٹرز کی جانب سے مبینہ طور پر چوری کیے گئے امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے ڈیٹا میں متعدد اہلکاروں کی ملازمت اور تعیناتی سے متعلق حساس تفصیلات شامل ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جن میں چین اور روسی انٹیلی جنس، منشیات فروش گروہوں اور دیگر حساس امور کے خلاف کام کرنے والے اہلکار بھی شامل ہیں۔رائٹرز کے مطابق ہیکرز کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً 5 ہزار ریکارڈز پر مشتمل اسپریڈشیٹ مبینہ طور پر 2 سے 3 ٹیرا بائٹ کے اس بڑے ڈیٹا کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہے جس تک گروپ نے رسائی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ڈیٹا میں ہزاروں موجودہ اور سابق ایف بی آئی ملازمین کے نام، پتے، فون نمبرز، تاریخ پیدائش، سوشل سیکیورٹی نمبرز اور ہنگامی رابطوں کی معلومات شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔مبینہ طور پر چوری شدہ معلومات میں ایف بی آئی کے مختلف فیلڈ دفاتر میں ملازمین کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ بعض حساس انٹیلی جنس، سیکیورٹی اور انسداد جاسوسی یونٹس سے متعلق تفصیلات بھی موجود ہیں۔ایف بی آئی نے کہا ہے کہ اسے ایک سائبر جرائم پیشہ گروپ کے اس دعوے کا علم ہے کہ ایف بی آئی جابز ڈاٹ گورنمنٹ پورٹل کو ہیک کیا گیا اور اس کے نتیجے میں ایف بی آئی ملازمین کی ذاتی معلومات متاثر ہوئی ہیں۔ بیورو کے مطابق واقعے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی تاہم معاملے کی “فعال اور بھرپور انداز میں تحقیقات” کی جا رہی ہیں۔رائٹرز نے کہا کہ وہ پوری اسپریڈشیٹ کی تصدیق نہیں کرسکا، تاہم دستیاب معلومات کے بعض حصوں کو کریڈٹ ریکارڈز اور ماضی میں سامنے آنے والے ڈیٹا لیکس سے ملایا گیا۔ مبینہ ڈیٹا میں چین سے متعلق امور پر کام کرنے والے اہلکاروں کے ساتھ روس، ایران اور حزب اللہ سے متعلق انٹیلی جنس، انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات، ٹیلی کمیونیکیشن اور ڈیٹا انٹرسیپشن، خفیہ تکنیکی کارروائیوں اور الیکٹرانک نگرانی سے متعلق ذمہ داریاں بھی درج ہیں۔سابق ایف بی آئی کاؤنٹر انٹیلی جنس اہلکار ایرک او نیل نے کہا کہ اگر یہ معلومات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں کے لیے انتہائی قیمتی ہوسکتی ہیں، کیونکہ اس کے ذریعے مخصوص اہلکاروں کو حساس ذمہ داریوں سے جوڑا جاسکتا ہے۔ ایف بی آئی سے وابستہ رہنے والے سابق فوجی تفتیش کار ٹریور ہلی گوس نے بھی ہنگامی رابطوں کی معلومات شامل ہونے پر تشویش ظاہر کی، کیونکہ ان رابطوں میں اہلکاروں کے شریک حیات یا بچوں کی معلومات بھی ہوسکتی ہیں۔رائٹرز کے مطابق وہ لیک ہونے والے ڈیٹا میں شامل 8 افراد کے عہدوں یا پیشہ ورانہ تفصیلات کو عدالتی ریکارڈز، خبروں، لنکڈ اِن پروفائلز اور سوشل میڈیا پر دستیاب معلومات سے ملا سکا۔ تاہم تمام ملازمتوں اور تعیناتیوں کی درستگی یا ان کے موجودہ ہونے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔شائنی ہنٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے موجودہ اور سابق ایف بی آئی ملازمین کا ڈیٹا چوری کیا ہے اور بیورو کی جانب سے مئی میں جاری کیے گئے ایک بیان کو واپس لینے تک معلومات روکنے کی بات کی ہے۔ ایف بی آئی اس سے قبل گروپ پر حساس یا ذاتی معلومات تک رسائی کے بارے میں مبالغہ آمیز دعوے کرنے کا الزام لگا چکا ہے، تاہم شائنی ہنٹرز نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اپنے دعووں کو حقیقی قرار دیا ہے۔رائٹرز نے کہا کہ وہ ہیکرز کے پاس موجود مبینہ ڈیٹا کی مکمل مقدار اور نوعیت کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔ شائنی ہنٹرز اس سے قبل ایف بی آئی ملازمین اور درخواست گزاروں کی جانچ پڑتال، بیک گراؤنڈ تحقیقات اور حساس طبی معلومات سے متعلق فائلوں تک رسائی کا دعویٰ بھی کرچکا ہے، تاہم گروپ نے مزید ڈیٹا جاری نہ کرنے کا کہا ہے۔