نیتن یاہو کا مختصر دورہ امریکا، ٹرمپ انتظامیہ سے کشیدہ تعلقات نمایاں
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے امریکا کا غیر معمولی طور پر مختصر دورہ گزشتہ سال کے ایک ہفتے پر محیط دورے کے برعکس ہے، جس کے دوران ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق نیتن یاہو نیویارک میں آٹھ گھنٹے سے بھی کم وقت گزارنے کے بعد اسرائیل واپس روانہ ہوجائیں گے۔ نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق وہ دورے کے دوران 9 عالمی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے، جن میں ارجنٹائن، بولیویا، پیراگوئے، پاناما، ایتھوپیا کے صدور، کولمبیا کے نائب صدر اور یونان، سلووینیا اور پاپوا نیو گنی کے وزرائے اعظم شامل ہیں، تاہم امریکی حکام سے ملاقات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ امریکا میں اسرائیل کے سابق سفیر مائیکل اورن نے کہا کہ انہیں یاد نہیں کہ کسی اسرائیلی وزیراعظم نے امریکا کا دورہ کیا ہو اور امریکی صدر سے ملاقات نہ کی ہو۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بغیر نیتن یاہو کا دورہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل ان کے لیے ایک دھچکا ہے۔ ٹرمپ اپنی دوسری صدارتی مدت کے دوران نیتن یاہو سے آٹھ مرتبہ ملاقات کرچکے ہیں اور دونوں رہنماؤں کی آخری ملاقات جولائی میں ہوئی تھی۔ نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ متعدد عالمی رہنماؤں نے ان سے ملاقات کی درخواست کی تھی، تاہم مصروف شیڈول اور یہودی تہوار سُکوت شروع ہونے سے قبل اسرائیل واپسی کی ضرورت کے باعث وزیراعظم صرف چند ملاقاتیں ہی کرسکے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے فروری میں ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، تاہم بعد میں دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سامنے آئے جب ٹرمپ نے امریکا کو تنازع سے نکالنے کی کوشش کی۔ جون میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک عبوری معاہدہ بھی ہوا جس کی اسرائیل نے مخالفت کی، تاہم چند ہفتوں بعد یہ معاہدہ بھی ختم ہوگیا۔ غزہ جنگ کے آغاز کے بعد امریکا میں اسرائیل کی عوامی حمایت میں بھی کمی آئی ہے، خاص طور پر ڈیموکریٹس میں۔ ادھر غزہ جنگ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کے باعث اسرائیل کو سفارتی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا ہے۔ رواں ماہ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا تھا، جس پر واشنگٹن کا ردعمل نسبتاً محدود رہا۔