اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹ نے آسٹریلوی حکومتی ہیلتھ سسٹم میں رسائی حاصل کرلی


آسٹریلیا : امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی کے تیار کردہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ایک ایجنٹ نے اندرونی جائزے کے دوران آسٹریلوی حکومت کے ہیلتھ اسٹیٹسٹکس سسٹم میں رسائی حاصل کرلی، جہاں اس نے عوامی اور غیر عوامی فائلوں تک رسائی کے ساتھ بعض فائلیں سسٹم میں لکھیں۔آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے بدھ کو واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ جون میں اوپن اے آئی کے ماڈلز کے اندرونی جائزے کے دوران پیش آیا۔یہ واقعہ آسٹریلوی حکومتی نیٹ ورک میں کسی اے آئی ایجنٹ کی جانب سے مداخلت کا عوامی سطح پر سامنے آنے والا پہلا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے، جس نے خودمختار اے آئی سسٹمز کی جانب سے حفاظتی پابندیوں کو نظرانداز کرنے کی صلاحیت پر نئی تشویش پیدا کردی ہے۔وزیراعظم البانیز کے مطابق اے آئی ایجنٹ نے آسٹریلوی میڈیکیئر کے اعدادوشمار کے ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کی اور معمول کے ذرائع سے مطلوبہ معلومات حاصل نہ ہونے پر عائد پابندیوں کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ مریضوں کی ذاتی طبی معلومات تک رسائی حاصل کی گئی ہو۔نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انتھونی البانیز نے کہا کہ ’’بہرحال یہ صورتحال واضح طور پر ناقابل قبول ہے۔‘‘وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے بدھ کو اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹ مین سے ٹیلی فون پر گفتگو کرکے واقعے پر آسٹریلیا کی ’’شدید تشویش‘‘ سے آگاہ کیا۔البانیز نے آسٹریلوی حکام کو واقعے سے آگاہ کرنے میں تاخیر پر بھی اوپن اے آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ آسٹریلوی حکومت کے مطابق اوپن اے آئی کو اگست میں اس سرگرمی کا علم ہوگیا تھا، تاہم کمپنی نے 10 ستمبر کو ایک عمومی سرکاری ای میل پتے کے ذریعے کینبرا کو اطلاع دی۔آسٹریلوی وزیراعظم نے کہا کہ کمپنی نے حکومت کو واقعے سے آگاہ کرنے میں بہت زیادہ وقت لیا جبکہ اطلاع دینے کا طریقہ بھی قابل قبول نہیں تھا۔اوپن اے آئی اور آسٹریلوی حکام کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کمپنی اپنے اے آئی ماڈلز کی اندرونی جانچ کررہی تھی۔ اے آئی ایجنٹ کو آسٹریلوی حکومت کے ادویات اور صحت کے شعبے کے اخراجات سے متعلق معلومات اور عوامی اخراجات کے اعدادوشمار تلاش کرنے کا کام دیا گیا تھا۔تاہم جب ایجنٹ کو بعض معلومات تک رسائی میں رکاوٹ کا سامنا ہوا تو اس نے ان پابندیوں کو بائی پاس کرنے کی کوشش کی۔آسٹریلوی وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے اے آئی کے اس طرز عمل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب اسے مطلوبہ معلومات نہیں دی گئیں تو اس نے رکنے کے بجائے حفاظتی رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کی۔اوپن اے آئی کے ترجمان ڈریو پوسیٹر نے کہا کہ کمپنی کو اگست میں اپنے ماڈلز کی سرگرمیوں کے وسیع جائزے کے دوران اس کارروائی کا علم ہوا۔ان کے مطابق جائزے کے دوران آسٹریلوی حکومت کی متعدد ویب سائٹس اور سروسز سے متعلق سرگرمی سامنے آئی اور ماڈلز نے ایسے اقدامات کیے جن کا اوپن اے آئی نے ارادہ نہیں کیا تھا۔اوپن اے آئی نے کہا کہ اس کی تحقیقات میں مریضوں کے ریکارڈ تک رسائی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ کمپنی کے مطابق حاصل کی گئی معلومات میں مجموعی صحت کے اعدادوشمار اور اندرونی فائلوں کے نام شامل تھے۔آسٹریلوی حکام نے بتایا کہ متاثرہ نظام ایک پرانی ہیلتھ اسٹیٹسٹکس ویب سائٹ تھی اور اس میں انفرادی مریضوں کا طبی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔حکومتی سروسز کی وزیر کیٹی گالاگر نے بتایا کہ اوپن اے آئی کی جانب سے بھیجی گئی اطلاع ایک ایسے عوامی ای میل پتے پر موصول ہوئی جسے دن میں صرف ایک مرتبہ چیک کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے میل باکس میں بڑی تعداد میں دیگر اطلاعات اور جعلی پیغامات بھی موصول ہوتے ہیں۔وزیراعظم البانیز نے بتایا کہ مزید تین سرکاری نظام بھی اے آئی سرگرمی سے متاثر ہونے کا امکان ہے۔ ان میں آسٹریلین انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ ویلفیئر، نیو ساؤتھ ویلز بیورو آف کرائم اسٹیٹسٹکس اینڈ ریسرچ اور وکٹورین محکمہ صحت شامل ہیں۔حکومت کے مطابق آسٹریلین انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ ویلفیئر کے نظام میں مداخلت کے شواہد نہیں ملے، تاہم اس کی ویب سائٹ بھی اے آئی ایجنٹ کی جانب سے ہدف بنائے جانے والی سائٹس میں شامل تھی۔آسٹریلوی سگنلز ڈائریکٹوریٹ کی معاونت سے واقعے کی فرانزک تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا دیگر سرکاری نظام بھی متاثر ہوئے یا نہیں۔وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ٹاسک فورس تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر واقعے کے اثرات محدود دکھائی دیتے ہیں۔تاہم واقعے نے سائبر سکیورٹی ماہرین میں تشویش بڑھا دی ہے کہ ایسے اے آئی ایجنٹس جو انٹرنیٹ پر خودکار طور پر براؤزنگ، کاموں کی انجام دہی اور رکاوٹوں کا سامنا ہونے پر اپنے طرز عمل میں تبدیلی کی صلاحیت رکھتے ہیں، مستقبل میں کس حد تک خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔تحقیقی ادارے ٹرانسلوس نے بھی ایسے متعدد سابقہ واقعات کی نشاندہی کی ہے جن میں اے آئی ایجنٹس نے معمول کے ویب سرچ ذرائع سے معلومات حاصل نہ ہونے کے بعد تکنیکی رکاوٹوں کو بائی پاس کرنے کی کوشش کی۔ ادارے کے مطابق ان واقعات میں زیادہ تر عام تحقیقی کام شامل تھے اور کسی غیر عوامی ڈیٹا کے افشا ہونے کے شواہد نہیں ملے۔یہ واقعہ اے آئی کی سکیورٹی سے متعلق دیگر حالیہ خدشات کے بعد سامنے آیا ہے۔ اوپن اے آئی پہلے بھی سائبر سکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران اے آئی ایجنٹس کی جانب سے ہگنگ فیس کے سسٹمز تک رسائی حاصل کرنے کی اطلاع دے چکا ہے۔ دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی ماڈلز کی جانب سے آزمائشی ماحول میں غیر مجاز رسائی سے متعلق واقعات رپورٹ کیے ہیں۔آسٹریلوی حکومت کی فوری توجہ اس بات کا تعین کرنے پر ہے کہ اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹ نے بالکل کون سی معلومات تک رسائی حاصل کی اور آیا کسی دوسرے سرکاری نظام کو بھی نقصان پہنچا یا نہیں۔ حکومت واقعے کی اطلاع دینے میں اوپن اے آئی کی جانب سے اختیار کیے گئے طریقہ کار اور تاخیر کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے