بلوچستان ، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے 11 دہشت گرد ہلاک

اسلام آباد:بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی الگ الگ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک سکیورٹی اہلکار زخمی ہوا۔سرکاری ریڈیو پاکستان نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مستونگ کے علاقے کنک ویلی میں سکیورٹی فورسز نے آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت کارروائی کی، جس میں فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 9 دہشت گرد مارے گئے۔ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے علاقے میں قائم چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ پسپا کردیا۔ کارروائی کے دوران 2 دہشت گرد مارے گئے جبکہ دیگر نے فرار ہونے کی کوشش کی، جن کا سکیورٹی فورسز نے تعاقب کیا اور مزید 7 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک سکیورٹی اہلکار زخمی ہوا جسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔دوسری جانب تربت کے علاقے جوسک میں بھی سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے مزید 2 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ذرائع کے مطابق علاقے میں سرچ، کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کا سراغ لگایا جاسکے۔اسی روز سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے کرم سیکٹر میں فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش بھی ناکام بنادی۔ ذرائع کے مطابق دراندازی کی کوشش افغانستان کے صوبوں ننگرہار اور پکتیا میں قائم افغان طالبان کی چوکیوں سے کی گئی، تاہم سرحد پر تعینات پاکستانی فوجی دستوں نے اسے ناکام بنا دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دراندازی کی کوشش ناکام ہونے کے بعد افغان طالبان نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بھاری ہتھیاروں اور مارٹرز سے بلااشتعال فائرنگ کی، جس کا سکیورٹی فورسز نے مؤثر جواب دیا۔جوابی کارروائی کے دوران متعدد افغان طالبان سرحدی چوکیوں، مارٹر پوزیشنز اور دفاعی مقامات کو چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں، بشمول توپ خانے، سے نشانہ بنایا گیا۔ شدید جوابی کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان کے اہلکار متعدد چوکیاں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔اس سے قبل پیر کو بھی بلوچستان کے ضلع پنجگور میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 4 دہشت گرد مارے گئے تھے۔ کارروائی پنجگور کے علاقے پروم پروم کے آہان کوہ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی، جہاں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے جدید اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔19 ستمبر کو بھی سکیورٹی فورسز نے پنجگور اور چاغی میں ٹارگٹڈ کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔ پنجگور کے علاقے گوارگو میں 5 دہشت گرد مارے گئے جبکہ ان کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔ چاغی کے امین آباد اور سیاہ چنگ کے علاقوں میں بھی سکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کیں۔اس سے قبل 18 اور 19 ستمبر کی درمیانی شب قلات کے قریب پاکستان ہائی وے پر دہشت گردوں کی جانب سے چیک پوسٹ قائم کرکے مسافروں کو اغوا اور گاڑیاں چھیننے کی کوشش بھی ناکام بنا دی گئی تھی۔ کارروائی کے دوران 23 مغوی افراد کو بازیاب کرایا گیا جبکہ فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 5 دہشت گرد مارے گئے۔ذرائع کے مطابق دہشت گرد چمن کراچی این-25 شاہراہ پر لوگوں کی آمدورفت متاثر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے