اٹلی،اسکولوں میں نقاب پر پابندی غیرملکی طلبہ کی تعداد محدود

اٹلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی نے کہا ہے کہ حکومت اسکولوں میں چہرے کے نقاب پر پابندی اور ہر کلاس میں غیرملکی طلبہ کی تعداد محدود کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق برادرز آف اٹلی جماعت کے سالانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میلونی نے کہا کہ جلد کابینہ اجلاس میں ایک تجویز پیش کی جائے گی، جس کے تحت ہر کلاس میں غیرملکی طلبہ کی زیادہ سے زیادہ تعداد مقرر کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں انضمام کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنے والے غیرملکی طلبہ کے والدین کے لیے اطالوی زبان سیکھنا بھی لازمی قرار دیا جائے گا، جبکہ برقع اور نقاب پر پابندی عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔جیورجیا میلونی کا کہنا تھا کہ اگر کسی کلاس میں ایک بچہ اطالوی زبان سے ناواقف ہو تو دیگر طلبہ اور اساتذہ کی مدد سے وہ زبان سیکھ کر معاشرے میں بہتر طور پر شامل ہوسکتا ہے، تاہم ایسے بچوں کی تعداد زیادہ ہوجائے تو یہ انضمام کے بجائے نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کو چہرہ ڈھانپے بغیر اسکول آنا ہوگا اور کسی روایت یا ثقافتی جواز کی بنیاد پر نوجوان خواتین کے چہرے چھپانے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔اطالوی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فونڈازیون آئی ایس ایم یو کے مطابق ملک کے اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ میں 11.6 فیصد غیرملکی شہریت رکھتے ہیں، یعنی تقریباً ہر 100 طلبہ میں 12 غیرملکی طلبہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے