لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل نہیں ہوگی، وزیراعلیٰ قیادت کریں گے: شفیع اللہ جان

پشاور: وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع اللہ جان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، 27 ستمبر کو صبح پرامن طور پر مارچ شروع کیا جائے گا اور اس کی قیادت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کریں گے۔نجی ٹی وی کے پروگرام ’سینٹر اسٹیج‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شفیع اللہ جان نے کہا کہ لانگ مارچ کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں جبکہ سفر کے انتظامات بھی کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کی تاریخ حتمی ہے، تاہم مالی انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ کی قیادت میں لانگ مارچ میں 20 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوں گے۔ ان کے مطابق مارچ کے شرکا کو اسلام آباد پہنچنے میں چار دن بھی لگ سکتے ہیں، جبکہ لانگ مارچ سے متعلق حتمی فیصلے وزیراعلیٰ ہی کریں گے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے متعلق سوال پر شفیع اللہ جان نے کہا کہ عدالت کے احکامات پر عملدرآمد اسلام آباد کی حدود تک ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں، تاہم عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے حوالے سے ان کے بھی سوالات ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق عدالت 20 سے زائد احکامات جاری کرچکی ہے، لیکن ان پر عمل نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے متعلق عدالتی فیصلوں پر بھی عملدرآمد کرایا جائے۔شفیع اللہ جان کے مطابق حکومت نے اسلام آباد میں کنٹینرز کھڑے کردیے ہیں اور عدالت سے درخواست ہے کہ اس معاملے کا بھی نوٹس لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے تمام راستے اختیار کیے، لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی، اس لیے احتجاج کا راستہ اپنایا گیا ہے۔ ان کے بقول آئین اور قانون پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایسی سرگرمی جس سے بنیادی حقوق متاثر ہوں، آئین کے خلاف تصور ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو نشانہ نہیں بنایا جاسکتا، بانی پی ٹی آئی کو طبی سہولیات اور خاندان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے باعث احتجاج کیا جا رہا ہے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت کی جانب سے کسی ’انتشاری ٹولے‘ کو لانگ مارچ میں شامل کیا جاسکتا ہے، تاہم تحریک انصاف اس حوالے سے نظر رکھے گی۔کوہاٹ میں دہشت گردی کے واقعے سے متعلق شفیع اللہ جان نے شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کو کلیئر کیے جانے کے بعد شہدا کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو شہدا پیکج دیا جائے گا۔وزیر اطلاعات کے مطابق کوہاٹ میں ہونے والے حملے سے قبل سیکیورٹی الرٹ موجود تھا، تاہم اس سے پہلے کوہاٹ میں اتنا بڑا حملہ نہیں ہوا۔شفیع اللہ جان نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن صوبہ ہے۔ واقعے کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے جبکہ خیبر پختونخوا حکومت، پولیس اور عوام دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے