نیویارک میں بھارتی حکومت کے خلاف احتجاج، ہندو قوم پرستی کی پالیسیوں پر شدید تنقید


نیویارک: میڈیسن اسکوائر گارڈن کے باہر مظاہرین نے بھارتی حکومت اور ہندو قوم پرستی کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا اور بھارت میں سکھوں، مسلمانوں اور مسیحیوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک پر تحفظات کا اظہار کیا۔مظاہرین نے بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے۔خالصتان حامی تنظیم سکھس فار جسٹس کے جنرل کونسل گُرپت ونت سنگھ پنوں نے آر ایس ایس اور بی جے پی کی قیادت پر بھارت کو مبینہ طور پر ’’ہندو راشٹر‘‘ میں تبدیل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔گُرپت ونت سنگھ پنوں نے اپنے خطاب میں 1984 کے گولڈن ٹیمپل آپریشن، 1992 میں بابری مسجد کی شہادت اور منی پور میں مسیحیوں کے خلاف تشدد کا حوالہ بھی دیا۔انہوں نے بھارتی ریاستی اداروں پر الزام عائد کیا کہ انہیں سکھوں، مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف مبینہ طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔مظاہرین نے بھارت میں اقلیتوں کے حقوق اور انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید جاری رکھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے